العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق روسی ساختہ سخوئی ایس یو 22 منگل کو صنعا کے وسط میں واقع مشہور انقلاب چوک کے نزدیک ایک رہائشی عمارت پر گر کر تباہ ہوا ہے۔ یمنی حکام نے حادثے میں پائلٹ سمیت بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ فوری طور پر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کی اطلاع کے مطابق طیارہ تربیتی پرواز پر تھا اور اس دوران وہ صنعا کے مغربی رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ مرنے والوں میں تین خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔
حادثے کے بعد تباہ شدہ طیارہ کے ٹکڑے شاہراہ پر دور دور تک بکھر گئے اور اس سے کئی کاروں کو بھی آگ لگ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس اور امدادی کارکنوں نے طیارے کے ملبے سے پانچ مسخ شدہ لاشیں نکال لی ہیں۔ وہ مکمل طور پر جل کر ناقابل شناخت ہو چکی تھیں۔
حکام نے حادثے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ وہ جس عمارت پر گرا ہے، اس کے بالائی حصے میں لوگ قیام پذیر ہیں اور نیچے دکانیں ہیں۔ ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی فوٹیج میں ہیلی کاپٹر کے ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے اور اس کے آس پاس لوگ کھڑے ہیں۔
یاد رہے کہ نومبر 2012ء میں یمنی فضائیہ کا ایک ٹرانسپورٹ طیارہ انتونوف ایم 26 صنعا کے شمالی حصے میں تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا اور اس واقعے میں طیارے میں سوار تمام دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار