بشارالاسد سے سنگین اور مہلک غلطی سرزد ہوئی ہے:روس

روس کے وزیراعظم دمتری میدویدیف کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد سے سنگین اور شاید مہلک غلطی سرزد ہوچکی ہے اور ان کے اقتدار میں رہنے کے امکانات روزبروز معدوم ہوتے جارہے ہیں۔
روسی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے اور ان کا مطلب بالکل واضح ہے کہ اب روسی قیادت نے بھی یہ ماننا شروع کردیا ہے کہ شامی صدر کے دن گنے جاچکے ہیں۔البتہ دمتری میدویدیف نے اس انٹرویو میں روس کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ شامی حکومت اور اس کے مخالفین کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے اور بشارالاسد کو غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت سے اقتدار سے نکال باہر نہیں کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ شامی صدر کو بہت پہلے حزب اختلاف کو مذاکرات کی میز پر لے آنا چاہیے تھا مگر یہ ان کی غلطی ہے کہ انھوں نے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا اور اب یہی چیز ان کی قسمت کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

روسی وزیراعظم نے ”شام میں غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ،یورپی یونین اور علاقائی طاقتیں تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کریں اور صرف یہ مطالبہ ہی نہ کرتے رہیں کہ بشارالاسد اقتدار سے دستبردار ہوجائیں اور پھر انھیں لیبیا کے سابق صدر معمرقذافی کی طرح بے دردی سے مار دیا جائے یا پھر مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی طرح اسٹریچر پر ڈال کر انھیں عدالتوں کے چکر لگوائے جائیں”۔

واضح رہے کہ روس شامی صدر کے خلاف گذشہ بائیس ماہ سے جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران ان کا بڑا حمایتی رہا ہے اور اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کے لیے مغربی ممالک کی پیش کردہ قراردادوں کو تین مرتبہ مسترد کردیا تھا لیکن اب روسی قیادت بشارالاسد کی حمایت سے پچھے ہٹ رہی ہے اوراس نے بھی کہنا شروع کردیا ہے کہ بشارالاسد حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں۔

درایں اثناء ادھر شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب مغرب میں صدر بشارالاسد کی وفادارفوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔اس کے نتیجے میں جنوبی شہر درعا کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ کو بند کردیا گیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق شامی فوج کے جنگی طیاروں نے دارالحکومت کے مشرق اور جنوب میں واقع باغی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے اور اس کے علاوہ توپ خانے سے بھی ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔باغیوں اور اسدی فوجیوں کے درمیان دمشق کے نزدیک ریلوے ٹریک پر دوبدو لڑائی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے۔

شامی فوج اور باغیوں کے درمیان یہ لڑائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس نے شام کا دورہ کیا ہے۔وہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام شام کے لیے امدادی کانفرنس کے انعقاد سے چند روز قبل ہی تازہ صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دمشق پہنچی ہیں۔یہ کانفرنس خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شامیوں کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد جمع کرنے کی غرض سے منعقد کی جارہی ہے۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

4 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago