مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ملزموں کے خلاف پیش کردہ چارج شیٹ میں الزام عاید کیا تھا کہ انہوں نے ستائیس اگست سے بارہ ستمبر تک جان بوجھ کر ایسے اعمال کئے جو ملک کی وحدت، سلامتی اور سرزمین کے خلاف تھے۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر دیئے گئے ایک بیان کے ذریعے ملک کو فرقہ وارنہ اور نسلی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے اپنی انتہاء پسند سوچ کو مذہب کی آڑ میں فروغ دینے کی کوشش کی۔ ان کا یہ فعل آسمانی مذاہب کی واضح توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ ملزمان توہین مذہب جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کر کے ملک میں فتنہ و فساد پھیلانا چاہتے تھے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ساتوں ملزموں نے من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے جعلی مواد استعمال کر کے ایسی فلم بنائی جس کے ذریعے وہ مصر میں قبطی عیسائیوں پر ہونے والے مزعومہ مظالم کا پردہ چاک کرنا چاہتے تھے۔ اس فلم کے مندرجات سامنے آنے پر ملک میں افراتفری اور مفاد عامہ کو گزند پہنچنے کا اندیشہ تھا۔
ملزموں نے اپنے مذموم مقاصد کی ترویج کی خاطر اسلام کے آخری پیغمبر کی شان میں گستاخی پر مبنی فلم تیار کی۔ پراسیکیوشن نے بتایا کہ آٹھویں ملزم پادری ٹیری جونز نے دیگر ملزمان کے ساتھ ملکر مذکورہ شرانگیز امور انجام دینے کی کوشش کی، تاہم اس کا کردار زیادہ تر دوسرے افراد کو اکسانے تک محدود رہا۔ تمام ملزمان کے خلاف مقدمے کی سماعت ان کی عدم موجودگی میں ہوئی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید