بغداد اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے انسداد دہشتگردی کے قانون میں اصلاحات کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ سنی برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے نیز انہوں نے قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں غلط گرفتار کیا جارہا ہے۔
دارالحکومت بغداد میں بعد نماز جمعہ سنیوں کی مساجد سے ریلی نکالی گئی جبکہ سمارا اور موصل میں بھی مظاہرے کئے گئے۔
اس موقع پر مساجد کے خطیبوں نے کہا کہ ان لوگوں کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا جو ہمیں ہمارے حقوق سے دور رکھنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا تحفظ کریں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے عراقی پرچم اور بینر اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے کہ ہم کمیٹیاں نہیں چاہتے ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں۔
جنگ نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید