بغداد اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے انسداد دہشتگردی کے قانون میں اصلاحات کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ سنی برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے نیز انہوں نے قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں غلط گرفتار کیا جارہا ہے۔
دارالحکومت بغداد میں بعد نماز جمعہ سنیوں کی مساجد سے ریلی نکالی گئی جبکہ سمارا اور موصل میں بھی مظاہرے کئے گئے۔
اس موقع پر مساجد کے خطیبوں نے کہا کہ ان لوگوں کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا جو ہمیں ہمارے حقوق سے دور رکھنا چاہتے ہیں جبکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کا تحفظ کریں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے عراقی پرچم اور بینر اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے کہ ہم کمیٹیاں نہیں چاہتے ہم اپنے حقوق چاہتے ہیں۔
جنگ نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان