حسنی مبارک کو اپنی حکومت کے مخالف مظاہرین کی اموات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
چوراسی سالہ حسنی مبارک کو سنہ 2011 میں دارالحکومت قاہرہ اور دیگر شہروں میں وسیع احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور جون میں انہیں قید کر دیا گیا تھا۔
عدالت نے ملک کے سابق وزیر داخلہ حبیب الادلي کے خلاف مقدمے کی بھی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق حسنی مبارک کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی بھی دوبارہ سماعت کی جائے گی۔ انہیں گزشتہ سال جون میں ان الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔
حسنی مبارک نے مصر پر تیس سال حکومت کی تھی اور ان کی حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک سے پہلے ان پر چھ مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے تھے۔
ان کی اقتدار سے معزولی کے بعد گزشتہ سال جون میں اخوان المسلمون کے منتخب صدر محمد مرسي نے مصر میں اقتدار سنبھالا تھا۔
حسنی مبارک کے وکلاء میں سے ایک محمد عبدالرزاق نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ مبارک کے مقدمے کی دوبارہ سماعت انہی ثبوتوں کی بنیاد پر کی جائے گی جن پر پہلے مقدمے کی سماعت کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ، ’مقدمے کی سماعت میں کوئی نیا ثبوت شامل نہیں کیا جائے گا۔‘
استغاثہ کی اپیل پر جج عبدالرحمان نے حسنی مبارک، ان کے بیٹے جمال اور علی کے ساتھ ہی مفرور قرار دی گئی کاروباری شخصیت حسین سلیم پر لگے بدعنوانی کے معاملات میں بریت کے معاملے کی بھی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔
مبارک کے وکیل نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے کی سماعت کے لیے ججوں کا نیا پینل مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حسنی مبارک کی صحت کو مدِنظر رکھے گا کیونکہ قاہرہ کی ایک جیل میں قید حسنی مبارک کی صحت کے بارے میں ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
سابق صدر کو فی الحال فوج کے ہسپتال میں رکھا گیا ہے کیونکہ گزشتہ ماہ وہ جیل کے باتھ روم میں گر کر زخمی ہو گئے تھے۔
بی بی سی اردو
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام