نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کوئٹہ کی موجودہ صورتحال کا حل نکالنا ہو گا، اسلام میت کی جلد تدفین کا حکم دیتا ہے، دھرنے میں رکھنے سے انسانی لاشوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، انھیں شریعت کے تقاضوں کے مطابق دفن کیا جائے، اگر بالفرض بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جاتا ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اس سے صوبہ میں امن وامان کی صورتحال درست ہو جائے گی اور لوگوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔
این این آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور سوات پر پوری قوم غمزدہ ہے، حکومت قاتلوں کو گرفتار کرے اور احتجاج میں بیٹھے لوگوں کے جائز مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ملک کو خانہ جنگی سے بچائے۔ انھوں نے کہا کہ بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے نڈھال اور بے حال عوام ملک میں جلد انتخابات کے ذریعہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ملک کی موجودہ نازک اور پریشان کن صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو پھر قوم حکمراں طبقہ کو معاف نہیں کریگی۔
ایکسپریس نیوز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید