نجی ٹی وی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کوئٹہ کی موجودہ صورتحال کا حل نکالنا ہو گا، اسلام میت کی جلد تدفین کا حکم دیتا ہے، دھرنے میں رکھنے سے انسانی لاشوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، انھیں شریعت کے تقاضوں کے مطابق دفن کیا جائے، اگر بالفرض بلوچستان میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگایا جاتا ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اس سے صوبہ میں امن وامان کی صورتحال درست ہو جائے گی اور لوگوں کو مارنے کا سلسلہ بند ہو جائے گا۔
این این آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں پارٹی عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ اور سوات پر پوری قوم غمزدہ ہے، حکومت قاتلوں کو گرفتار کرے اور احتجاج میں بیٹھے لوگوں کے جائز مطالبات کو پورا کرتے ہوئے ملک کو خانہ جنگی سے بچائے۔ انھوں نے کہا کہ بم دھماکوں اور ڈرون حملوں سے نڈھال اور بے حال عوام ملک میں جلد انتخابات کے ذریعہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ملک کی موجودہ نازک اور پریشان کن صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس نہ لیا تو پھر قوم حکمراں طبقہ کو معاف نہیں کریگی۔
ایکسپریس نیوز
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان