شیعہ رہنما نے نوری المالکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی قیادت کو عراق کی تعمیر کا موقع دے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی موجودہ حکومت تمام فیصلے اپنے طور پر کر رہی ہے۔ بغداد، عراق کے سیاسی روڈ میپ میں شامل دوسری جماعتوں اور کابینہ کے تمام وزراء کو آن بورڈ نہیں لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت شہریوں کو سہولیات دے۔ چند دن پہلے ملک میں شدید بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس میں حکمران، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
مقتدی الصدر نے رمادی، صلاح الدین، دیالی اور نینوی میں پرامن مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہروں کو فرقہ وارنہ نعروں سے پاک رکھا جائے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید