جبکہ 5 کی حالت ابھی تک نازک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے 4 میڈیکل اسٹوروں کے مالکان کو گرفتار کرکے کارروائی کا آغاز کردیا ہے،جب کہ گزشتہ روز تحقیقات کیلیے وزیراعلی انسپکشن ٹیم کے ارکان ڈی آئی جی مبشراللہ اور مشیر وزیراعلی صحت خواجہ سلیمان رفیق نے ملزموں کے بیانات قلمبند کیے۔ بتایاگیا ہے کہ شاہدرہ ٹائون میں کچھ لوگوں نے علی میڈیکل اسٹور اور بسم اللہ میڈیکل اسٹور سےمقامی کمپنی کا تیار کردہ کھانسی کا ٹائینو نامی سیرپ خرید کر پیا یہ سیرپ پیتے ہی 22افرادکی حالت تشویشناک ہوگئی جنھیں سڑکوں اورگلیوں میں تڑپتا دیکھ کر راہ گیروں نے پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے موقع پر آ کر ان لوگوں کو ایمبولنسز میں ڈال کر فوری طبی امداد کیلیے اسپتال پہنچایا، جہاں پر17 افراد دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونیوالے افراد کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک کر دیا گیا۔ وزیراعلی معائنہ ٹیم کی سربراہی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی72 گھنٹوںمیں رپورٹ پیش کریگی۔ ڈی سی او اور سیکریٹری ہیلتھ نے زہریلا سیرپ تیارکرنیوالی فیکٹری، بسم اللہ میڈیکل اسٹور، علی میڈیکل اسٹور کو سیل کردیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاکتوں کے ذمے دار وزیراعلیٰ شہباز شریف ہیں۔
ایکسپریس نیوز
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار