Categories: مشرق وسطی

اردن: مسلح حملہ آور پولیس کے ہاتھوں ہلاک

اردن میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملک کے شمال میں ایک مبینہ طور پر مسلح شخص کو ایک تھانے پر حملہ کرتے ہوئے ہلاک کر دیا ہے۔
اردن میں دوسرے دن بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق اربد صوبے کے شہر میں بارہ پولیس افسران اس حملے میں زخمی ہوئے۔
بدھ کے روز اردن کے کئی دوسرے شہروں سے لوٹ مار، فسادات اور مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔
اس بے چینی کا آغاز اس وقت ہوا جب اردن کی حکومت نے منگل کی رات کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا اور اس پر دی گئی حکومتی رعایت کو واپس لے لیا۔
پولیس حکام کے مطابق دارالحکومت عمان کے قریب ایک پولیس تھانے پر حملے کے دوران ایک پولیس افسر کی آنکھ میں گولی لگی۔
عمان میں سینکڑوں مظاہریں کو پولیس نے آنسو گیس کے استعمال کے بعد منتشر کیا۔
مظاہرین نے وزیر اعظم عبداللہ منصور کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے اور کچھ نے تو شاہ عبداللہ پر بھی تنقید کی ہے جو کہ اردنی قانون کے مطابق ایک قابل سزا جرم ہے۔
انتیس سالہ حکومتی اہلکار داؤد شورفت نے بتایا کہ وہ ’شاہ عبداللہ کو پسند کرتے ہیں مگر وہ ہمارا درد نہیں سمجھتے اور حکومت کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں جبکہ لوگ بمشکل اپنے بچوں کے لیے خوراک کا بندوبست کر پا رہے ہیں۔‘
عمان کے قریبی ایک شہر صالت میں پولیس نے مظاہرین کو وزیر اعظم منصور کے گھر کے قریب پہنچنے سے روک دیا۔
وزیر اعظم کا موقف ہے کہ ایندھن کی قیمتوں پر دی گئی حکومتی رعایت کی واپسی حکومتی بجٹ میں موجود پانچ ارب ڈالر کے خسارے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
اس کے نتیجے میں گھریلو گیس کی قیمت پچاس فیصد بڑھ گئی ہے اور ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی تینتیس فیصد اور کم معیار کے تیل کی قیمت میں پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کے اس اضافے کو حکومت غریب خاندانوں کو کی گئی ادائیگیوں کے ذریعے کم کرے گی۔
اردن قدرتی گیس مصر سے درآمد کرتا ہے اور گزشتہ کافی عرصہ سے مصر کی جانب سے اردن اور اسرائیل کو گیس مہیا کرنے والی پائپ لائن پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے حکومت کو دوسرے مہنگے ذرائع سے گیس درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
پچھلے مہینے اردن کی اخوان المسلیمین کے سیاسی شعبے اسلامک ایکشن فرنٹ کی جانب سے دارالحکومت عمان میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں دس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔
مظاہرین یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ سیاسی نمائندگی کو وسیع کیا جائے اور پارلیمان کو زیادہ جمہوری بنایا جائے۔
شاہ عبداللہ نے تئیس جنوری کو وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے جبکہ حزب اختلاف نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
تیونس سے شروع ہونے والے مظاہروں سے اردن اب تک بچا رہا ہے جن کی وجہ سے تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں طویل عرصے سے قائم حکومتوں کو خاتمہ ہوا۔

بی بی سی اردو

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

7 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago