العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں کئی قصبے اور دیہات میں فلسطینیوں کو اپنے زیتون کے باغات سے محروم کردیا گیا ہے۔ بعض مقامات پر اسرائیل نے یہودی کالونی تعمیر کرنے کی آڑ میں زیتون کے درخت تلف کئے ہیں اور کہیں صہیونی فوج نے اپنے کیمپوں کے تحفظ کی خاطر بڑی تعداد میں زیتون کے باغ کاٹ ڈالے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں زیتون کے باغات یہودیوں کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ فصل پکنے پر بنتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ وسطی شہر رام اللہ کے قریوت نامی قصبے میں پیش آیا۔ قریوت کے باسیوں نے زیتون کے باغ سے پھل چننا تھا، اس کی بھنک انتہا پسند یہودیوں کو ہو گئی، انہوں نے راتوں رات وسیع رقبے پر پھیلے زیتون کے باغ پر یلغار کر دی۔ کلہاڑوں اور آریوں کی مدد سے یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے ملکیتی زیتون کے ایک سو سے زائد درخت قلم کر ڈالے۔ پو پھٹنے پر فلسطینی اپنے باغ کو اجڑا دیکھ کر سر پیٹ کر رہ گئے۔
رام اللہ سے تعلق رکھنے والے شہری ابو رائد نے تلف کیے گئے زیتوں کے درختوں کی شاخوں سے پھل چنتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ یہ سارا منظر دیکھ کر خود ہی فیصلہ کریں کہ درختوں کے ساتھ دشمنی کو کیا نام دیا جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے سو سال پرانے زیتون کے درخت بھی کاٹ ڈالے۔ ان قدیم درختوں کے تنے زمین پر پڑے یہودیوں کی شقاوت قلبی کا منہ بولتا ثبوت پیش کر رہے ہیں‘‘۔
قریوت قصبے میں ایک ہی رات میں زیتون کے ایک سو پھلدار درختوں کی تلفی کا یہ پہلا اور آخری واقعہ نہیں ہے بلکہ فلسطینی سال ہا سال سے صہیونیوں کی ایسی ہی زیادتیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ صہیونی حکام کے ہاں درج کرائی گئی شکایات کے مطابق کہ اس سال کے آغاز سے یہودی آباد کاروں نے اب تک فلسطینیوں کی املاک پر600 حملے کیے۔ سیکڑوں ایسے حملے اور کارروائیاں ان کے علاوہ ہیں جو کسی ریکارڈ میں نہیں آئی ہیں۔
رام اللہ ۔ عبدالحفیظ جعوان
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان