انھوں نے کہا کہ مذمت کیلیے کہنے والے خودقاتل ہیں، ایسے لوگ اپنے آپ کو قابومیں رکھیں،کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں مذمت کاکہنے والے ہوتے کون ہیں،ایساکہنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں ہم نے ان سے اچھے طریقے سے مذمت کی ہے،انھوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور مساجد پر بمباری کی گئی۔ان مساجد پر بمباری روکنے والا کوئی نہیں۔
ملالہ یوسف زئی پر حملہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،اور اب علماء سے کہا جارہا ہے کہ وہ مذمت کریں۔اس واقعے کو علما کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔
ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم بحال کی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام