لوئر دیر میں پولیس افسر محمد جاوید نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ اتوار کی صبح انجروں بانڈا کے علاقے سے تحصیل مونڈہ آنے والی ایک مسافر گاڑی لنڈئی کے مقام پر بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے سے گاڑی میں سوار چودہ مسافر ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
انجروں بانڈہ کے رہائشی اور زرین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھے جب انہیں اطلاع ملی کہ لنڈئی شاہ کے مقام پر مُسافر گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی میں ان کے قریبی رشتہ دار سوار تھے جس کی اطلاع ملتے ہی وہ فوراً وہاں پہنچ گئے۔ زرین خان کے مطابق جائے وقوعہ پر لاشیں بکھری ہوئی پڑی تھی کسی کا پیر نہیں تھا اور کسی کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔
پولیس افسر محمد جاوید نے مزید بتایا کہ ابھی اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ بارودی سرنگ کتنا عرصہ پہلے نصب کی گئی تھی۔
پولیس افسر محمد جاوید نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں طالبان مخالف لوگ موجود نہیں ہے البتہ فوجی اہلکاروں نے ان کو مجبور کیاگیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لئے پہاڑی چوٹیوں پر پہرہ دینگے۔ زرین کے مطابق فوجیوں کے کہنے پر وہ رات کو پہاڑی چوٹیوں پر جاتے ہیں اور پہرہ کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے کی جگہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے متصل ہے اور ضلع لوئر دیر کے صدر مقام تیمر گرہ سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں پولیس افسر نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مسافر گاڑی میں کوئی اہم شخصیت یا کسی خاص برادری سے تعلق رکھنے والے افراد سوار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے سے لوگ روزانہ معمول کی خریداری کے لیے صدر مقام آتے ہیں۔
باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ دنوں سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی روز تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔
لوئر دیر میں اس سے پہلے بھی شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام