Categories: مشرق وسطی

بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر ‘آر ہی جی’ حملے میں ایک امریکی ہلاک

لیبیا (العربیہ ڈاٹ نیٹ) امریکا میں توہین رسالت پر مبنی مبینہ فلم کی تیاری پر مصر اور لیبیا سمیت دنیا بھر میں امریکی سفارتکاروں کے باہر غم و غصے سے لبریز ہزاروں مسلمانوں نے منگل کے روز احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔


 

لیبیا کے شہر بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر مسلح افراد نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ‘آر پی جی’ راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک امریکی شہری ہلاک ہو گیا۔ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قونصل خانے کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ یہ عملہ حملے کے وقت قونصل خانے میں موجود نہیں تھا۔

ادھر قاہرہ میں بھی ہونے والا مظاہرے کے دوران تقریباً بیس مظاہرین سفارتخانے کا سیکیورٹی حصار توڑ کر سفارتی کمپلکس کی دیوار پر چڑھ گئے اور انہوں نے عمارت سے امریکی پرچم اتار پھینکا اور اس کی جگہ احتجاج کی علامت سیاہ پرچم لہرا دیا۔ حملے کے وقت سفارتخانے کی حفاظت پر مامور پولیس دستے پراسرار طور پر غائب ہو گئے، تاہم واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزارت داخلہ نے سفارتخانے کی سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے فوری طور پر سیکیورٹی دستے امریکن سفارتی کمپلیکس کی جانب روانہ کر دیئے۔

یاد رہے کہ مصری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سخت سیکیورٹی حصار میں قائم سفارتخانے کی عمارت تک احتجاجی مظاہرہ کرنے والے رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں کیونکہ عمارت کے گرد اونچی فولادی دیوار کی وجہ سے کسی کو ممنوعہ علاقے میں داخلے کی جرات نہیں ہوئی۔

عینی شاہدین نے العربیہ کو بتایا کہ ایک اسلامی جماعت کے دسیوں کارکن امریکی سفارتخانے کی عمارت کے اندر داخل ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے “اسلام تجھ پر فدا” اور ” اللہ اکبر” کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں سفارتخانے سے امریکی پرچم اتار دیا۔

مصر میں سلفی جماعت نے منگل کے روز قاہرہ میں امریکی سفارتخانے کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرے کی کال دی تھی۔ مظاہرے کا مقصد امریکا میں اہانت رسول پر مبنی مبینہ فلم کی تیاری پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا اور واشنگٹن پر دباؤ بڑھانا تھا کہ وہ مسلمانوں کی دل آزاری اور ان کی صفوں میں اشتعال کا باعث بننے والی فلم کی تیاری کو فی الفور رکوانا تھا۔ اس فلم میں مبینہ طور پر ایسے مکالمے شامل تھے کہ جن سے توہین رسالت کا پہلو نکلتا ہے۔

ادھر امریکا نے قاہرہ میں اپنے سفارتخانے پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی مذہب بالخصوص دین اسلام کو گزند پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ایسا کرنے والے امریکی پالیسی کی ترجمانی نہیں کرتے۔ وہ امریکا میں اظہار رائے کی آزادی کا فائدہ اٹھا کر ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ امریکا ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں سزا نہیں دلوا سکتا۔

مظاہرے کا اہتمام کرنے والی دینی جماعت السلفیہ محاذ کے مطابق پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی مظہر امریکی فلم کو انتہا پسند امریکی پادری ٹیری جونز اور مصری تارکین وطن کا ایک گروپ تیار کرا رہا ہے۔ ٹیری جونز گزشتہ برس قرآن کریم کو نعوذ باللہ جلانے کی مہم کے روح رواں کے طور پر پوری دنیا کے مسلمانوں کے غیض و غضب کا نشانہ بن چکا ہے۔

 

modiryat urdu

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

7 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago