ریسکیو حکام نے لاہور متاثرہ فیکٹری سے متعدد مزدوروں کو نکال لیا ہے جن کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ زیادہ تر افراد جھلسنے اور دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ شہر کے ایک سرکاری شفاخانے میو اسپتال کے میڈیکل آفیسر نے حادثے میں 22 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقے بند روڈ گلشن راوی میں جوتوں کا سول بنانے والی کارخانے میں ایک روز قبل استعمال ہونے والے کیمیائی مادے کے ڈرم اور خام مال منگوائے گئے تھے۔ سب سے پہلے فیکٹری کے جنریٹر میں آگ لگی جس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
لاشوں اور زخمیوں کو میو اور منشی ہسپتال منتقل کیا چاچکا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک کمسن بچہ بھی شامل ہے جو خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیکٹری مالک کا بیٹا ہے۔ اس واقعے میں فیکٹری کا مالک بھی جاں بحق ہوچکا ہے۔
کراچی میں متاثرہ فیکٹری حب ریور روڈ پر واقع تھی۔ فیکٹری میں کام کرنے والے افراد نے میڈیا کو بتایا کہ فیکٹری میں چار سو سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں تاہم پانچ بجے زیادہ تر افراد فیکٹری سے جا چکے تھے اور فیکٹری میں ایک سو کے لگ بھگ افراد کام میں مصروف تھے۔
فائر بریگیڈ کے مطابق یہ آگ فیکٹری کی تین منزلہ عمارت کی بالائی منزل پر منگل کی شام کو لگی جس نے بعد میں پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائر چیف احتشام الدین نے صحافیوں کو بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان