وہ جمعرات کو تہران میں منعقدہ غیر وابستہ تحریک (نام) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے افتتاحی خطاب کیا۔
مصری صدر نے کہا کہ ”شامی صدر بشار الاسد حکمرانی کا قانونی جواز کھو چکے ہیں اور عالمی برادری کو شام میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں”۔ انھوں نے کہا کہ شامی عوام کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا اظہار یک جہتی ایک اخلاقی فرض ہے اور یہ ایک سیاسی اور تزویراتی ضرورت بھی ہے۔
صدر محمد مرسی جب یہ تقریر کر رہے تھے اور شامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو اس دوران غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس میں شریک شامی وفد اٹھ کر چلا گیا۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی مستقل نشست نہ ہونے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ہمارے لیے یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی کوئی مستقل نشست نہیں ہے۔ اس کو زیادہ نمائندہ ادارہ ہونا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…