وہ جمعرات کو تہران میں منعقدہ غیر وابستہ تحریک (نام) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے افتتاحی خطاب کیا۔
مصری صدر نے کہا کہ ”شامی صدر بشار الاسد حکمرانی کا قانونی جواز کھو چکے ہیں اور عالمی برادری کو شام میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں”۔ انھوں نے کہا کہ شامی عوام کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا اظہار یک جہتی ایک اخلاقی فرض ہے اور یہ ایک سیاسی اور تزویراتی ضرورت بھی ہے۔
صدر محمد مرسی جب یہ تقریر کر رہے تھے اور شامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو اس دوران غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس میں شریک شامی وفد اٹھ کر چلا گیا۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی مستقل نشست نہ ہونے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ہمارے لیے یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی کوئی مستقل نشست نہیں ہے۔ اس کو زیادہ نمائندہ ادارہ ہونا چاہیے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید