وہ جمعرات کو تہران میں منعقدہ غیر وابستہ تحریک (نام) کے سربراہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے افتتاحی خطاب کیا۔
مصری صدر نے کہا کہ ”شامی صدر بشار الاسد حکمرانی کا قانونی جواز کھو چکے ہیں اور عالمی برادری کو شام میں جاری خونریزی کو رکوانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں”۔ انھوں نے کہا کہ شامی عوام کی جدوجہد کے ساتھ ہمارا اظہار یک جہتی ایک اخلاقی فرض ہے اور یہ ایک سیاسی اور تزویراتی ضرورت بھی ہے۔
صدر محمد مرسی جب یہ تقریر کر رہے تھے اور شامی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے تو اس دوران غیر وابستہ تحریک کی سربراہ کانفرنس میں شریک شامی وفد اٹھ کر چلا گیا۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی مستقل نشست نہ ہونے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ ہمارے لیے یہ بات بالکل ناقابل قبول ہے کہ سلامتی کونسل میں افریقی ممالک کی کوئی مستقل نشست نہیں ہے۔ اس کو زیادہ نمائندہ ادارہ ہونا چاہیے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان