بھارتي رياست آسام کي پوليس کے مطابق رياست ميں مسلمان آباد کاروں اور مقامي بودو کميونٹي کے درميان زمين کے تنازعہ پر ہونے والے فسادات ميں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہيں.
پوليس کے مطابق رياستي دارالحکومت گوہاٹي کے مغربي ضلع کوکراجھر ميں يہ جھڑپيں دو روز سے جاري ہيں اور حالات پر قابو پانے کے ليے فوج کي مدد طلب کي گئي ہے.
يہ تنازعہ جمعہ کو ايک شخص کي ہلاکت پر شروع ہوا اور آس پاس کے تقريبا چھ ديہات تک پھيل گيا. اس کے نتيجے ميں سات ہزار لوگ جانيں بچانے کے ليے نقل مکاني کرگئے ہيں.
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید