لوگر کے نائب پولیس سربراہ رئیس خان صادق عبدالرحیم زادے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’’ 18 سویلین ہلاک ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔‘‘ عبدالرحیم زادے کے مطابق سات طالبان عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان دین محمد درویش کے مطابق بدھ کی صبح کی جانے والی اس کارروائی میں 15 کے قریب شہری ہلاک ہوئے۔
نیٹو کی بین الاقوامی امدادی فوج کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے میں متعدد عسکریت پسند ہلاک ہوئے، یہ فضائی حملہ نیٹو فوجیوں کے عسکریت پسندوں کے حملے کی زد میں آنے پر کیا گیا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان