نیٹو سپلائی بحال کرنا امریکا کو خطہ میں دس سال مزید ٹھہرنے کا موقع دینا ہے، چمن طورخم اور نیٹو سپلائی روٹس والے دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کریں گے، لاکھوں مسلمانوں کے قاتل امریکیوں کو گندم کے ایک دانے کی سپلائی بھی حرام ہے، نیٹو سپلائی بحالی کے لئے کوئی شرط منظور نہیں، مجرم وزیر اعظم اور غیر آئینی کابینہ کو ملکی سلامتی و خود مختاری سے متعلق فیصلوں کا کوئی اختیار نہیں ہے، بھارت سے دوستی و تجارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے غداری کے مترادف ہے، عسکری قیادت جرأت مندانہ موقف اختیار کرے۔
ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، سید منوّر حسن، حافظ محمد سعید، جنرل (ر) حمید گل، مولانا محمد احمد لدھیانوی، شیخ رشید احمد، اعجاز الحق، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا امیر حمزہ، حافظ عبدالغفار روپڑی اور دیگر رہنماوٴں نے منصورہ میں ہونے والے دفاع پاکستان کے اجلاس کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی بحالی کا معاملہ انتہائی حساس اور نازک ہے ہم نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی تاکہ مل بیٹھ کر متفقہ طور پر پاکستان کے دفاع کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے ہم نے تو انہیں یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ قیادت کرنا چاہتے ہیں تو ہم دفاع پاکستان کونسل کی قیادت بھی ان کے حوالے کرنے کو تیار ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، عمران خان کی اجلاس میں شرکت کی اطلاع ملی تھی لیکن معلوم ہوا ہے کہ وہ لندن چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ جب بھی کوئی اہم موقع آتا ہے ہمارے سیاسی لیڈر لندن چلے جاتے ہیں۔
دفاع پاکستان کونسل 27مئی کو کراچی سے لانگ مارچ شروع کر رہی ہے جو ملک بھر کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا جبکہ 25مئی جمعہ کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام