’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق سنی سٹیوڈنٹس اپنے علمائے کرام اور دانشوروں سے ملاقات اور قریب سے گفتگو کیلیے دارالعلوم زاہدان پہنچ چکے ہیں۔ ان کی محفل کا باقاعدہ آغاز جمعرات 26 اپریل 2012ء کی صبح میں ہوا۔
مذکورہ میٹنگ کا عنوان ’’اسلامی بیداری و انصاف طلبی کا طلوع، آمریت و خودپرستی کا زوال‘‘ رکھا گیا تھا جو شب جمعہ تک جاری رہی۔ اختتامی پروگرام میں حضرت شیخ السلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے خطاب کیا۔
یاد رہے ہر تعلیمی سال کے آخر میں ایرانی یونیورسٹیز کے سنی طلباء، دانشور و مفکرین حضرات اور علمائے کرام دارالعلوم زاہدان میں ملاقات و گفتگو کیلیے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ الحمدللہ اب تک اس میٹنگ کو طلباء و اساتذہ کی جانب سے بہت پذیرائی ملی ہے اور اکیڈمیک شخصیات انتہائی گرمجوشی سے دارالعلوم زاہدان آ پہنچتی ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام