’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق سنی سٹیوڈنٹس اپنے علمائے کرام اور دانشوروں سے ملاقات اور قریب سے گفتگو کیلیے دارالعلوم زاہدان پہنچ چکے ہیں۔ ان کی محفل کا باقاعدہ آغاز جمعرات 26 اپریل 2012ء کی صبح میں ہوا۔
مذکورہ میٹنگ کا عنوان ’’اسلامی بیداری و انصاف طلبی کا طلوع، آمریت و خودپرستی کا زوال‘‘ رکھا گیا تھا جو شب جمعہ تک جاری رہی۔ اختتامی پروگرام میں حضرت شیخ السلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے خطاب کیا۔
یاد رہے ہر تعلیمی سال کے آخر میں ایرانی یونیورسٹیز کے سنی طلباء، دانشور و مفکرین حضرات اور علمائے کرام دارالعلوم زاہدان میں ملاقات و گفتگو کیلیے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ الحمدللہ اب تک اس میٹنگ کو طلباء و اساتذہ کی جانب سے بہت پذیرائی ملی ہے اور اکیڈمیک شخصیات انتہائی گرمجوشی سے دارالعلوم زاہدان آ پہنچتی ہیں۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان