’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق سنی سٹیوڈنٹس اپنے علمائے کرام اور دانشوروں سے ملاقات اور قریب سے گفتگو کیلیے دارالعلوم زاہدان پہنچ چکے ہیں۔ ان کی محفل کا باقاعدہ آغاز جمعرات 26 اپریل 2012ء کی صبح میں ہوا۔
مذکورہ میٹنگ کا عنوان ’’اسلامی بیداری و انصاف طلبی کا طلوع، آمریت و خودپرستی کا زوال‘‘ رکھا گیا تھا جو شب جمعہ تک جاری رہی۔ اختتامی پروگرام میں حضرت شیخ السلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے خطاب کیا۔
یاد رہے ہر تعلیمی سال کے آخر میں ایرانی یونیورسٹیز کے سنی طلباء، دانشور و مفکرین حضرات اور علمائے کرام دارالعلوم زاہدان میں ملاقات و گفتگو کیلیے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ الحمدللہ اب تک اس میٹنگ کو طلباء و اساتذہ کی جانب سے بہت پذیرائی ملی ہے اور اکیڈمیک شخصیات انتہائی گرمجوشی سے دارالعلوم زاہدان آ پہنچتی ہیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید