کوئٹہ ميں کرائم برانچ ذرائع کے مطابق نواب اکبر بگٹي قتل کيس کي تحقيقات کي ذمہ داري بلوچستان ہائي کورٹ کے حکم پر کرائم برانچ کو سونپي گئي تھي ، جس پر اس کي جانب سے اس ہائي پروفائل قتل کيس کا چالان مکمل کيا گيا جس ميں نواب اکبر بگٹي قتل کيس کے حوالے سے سابق صدر پرويز مشرف ، سابق وزيراعظم شوکت عزيز، سابق گورنر اويس غني وسابق وزيراعلي جام يوسف، سابق وفاقي وزير داخلہ آفتاب شيرپاو اور صوبائي وزير داخلہ مير شعيب نوشيرواني کو نامزد کيا گيا ہے.
کرائم برانچ ذرائع کے مطابق اس چالان کو اب سيشن جج کوہلو کي عدالت ميں پيش کرنے کے لئے بھجواديا گيا، اس حوالے سے نواب بگٹي کے بڑے صاحبزادے جميل بگٹي نے پرويز مشرف، شوکت عزيز، جام يوسف، سابق گورنراويس غني، آفتاب احمد شيرپاو اور شعيب نورشيرواني کے خلاف اپنے والد کے قتل کي ايف آئي آر درج کرائي تھي جس پر گذشتہ سال چار نومبر کو جوڈيشيل مجسٹريٹ کوئٹہ کي عدالت نے کاروائي کرتے ہوئے سابق صدر پرويز مشرف، اس وقت کے وزيراعظم شوکت عزيز اور مير شعيب نوشيرواني کے گرفتاري کے وارنٹ جاري کردئيے تھے، تاہم ہائي کورٹ ميں جمع کرائے گئے اپنے بيانات ميں تحقيقات کے حوالے سے مکمل يقين دہاني کے بعد آفتاب شيرپاو، اويس احمد غني اور جام يوسف کو گرفتاري کے وارنٹ نہيں بھجوائے گئے تھے.
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید