مقامی ذرائح نے بتایا کہ سینا کے شمالی علاقے العریش میں دھماکے کے بعد اب تک کسی مصری پارٹی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ قدرتی گیس کی اسرائیل کو فراہمی کا معاہدہ حسنی مبارک کی حکومت میں ہوا۔ اسی حکومت نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مصر کو گیس کی مناسب قیمت نہیں دے رہا۔
مصر نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ گیس پائپ لائن کی حفاظت کے لیے نئے سرے سے اقدامات اٹھائے گا۔
مصری گیس کی کمپنی گاسکو کے ایک اعلی عہدیدار جو مصر سے اسرائیل اور اردن کو گیس کی فراہمی کے منصوبے کی نگرانی بھی کرتے ہیں اپنے سابقہ بیانات میں کہ چکے ہیں کہ ان دھماکوں سے مصری معیشت کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب تک مصر کو ان دھماکوں کے سبب 166 ملین ڈالرز کا خسارہ ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب اس گیس پائپ لائن کو تبدیل کرنے کی اصلاحات پر سو ملین ڈالرز خرچ آچکے ہیں اسی طرح گیس کی انشورنش کے لیے تیس کے بجائے چالیس ملین ڈالرز زیادہ لاگت آ رہی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…