مقامی ذرائح نے بتایا کہ سینا کے شمالی علاقے العریش میں دھماکے کے بعد اب تک کسی مصری پارٹی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ قدرتی گیس کی اسرائیل کو فراہمی کا معاہدہ حسنی مبارک کی حکومت میں ہوا۔ اسی حکومت نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مصر کو گیس کی مناسب قیمت نہیں دے رہا۔
مصر نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ گیس پائپ لائن کی حفاظت کے لیے نئے سرے سے اقدامات اٹھائے گا۔
مصری گیس کی کمپنی گاسکو کے ایک اعلی عہدیدار جو مصر سے اسرائیل اور اردن کو گیس کی فراہمی کے منصوبے کی نگرانی بھی کرتے ہیں اپنے سابقہ بیانات میں کہ چکے ہیں کہ ان دھماکوں سے مصری معیشت کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب تک مصر کو ان دھماکوں کے سبب 166 ملین ڈالرز کا خسارہ ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب اس گیس پائپ لائن کو تبدیل کرنے کی اصلاحات پر سو ملین ڈالرز خرچ آچکے ہیں اسی طرح گیس کی انشورنش کے لیے تیس کے بجائے چالیس ملین ڈالرز زیادہ لاگت آ رہی ہے۔
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…
حکام ’’جنگ کے انتظام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’غربت اور بھوک کے بحران‘‘ کا بھی انتظام…