مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی ایک تنظیم “مرکزالعدالہ” کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بئرسبع کی جامع مسجد پر چاروں طرف فوجی پینٹ کر کے اس میں فلسطینی نمازیوں کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اسرائیلی عدالت کے فیصلے خلاف کیا ہے۔ گذشتہ برس جون میں اسرائیلی عدالت نے مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی اجازت کے بارے میں درخواست مسترد کر دی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے مسجد پر کئی ماہ سے حکومت نے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ حال ہی میں جب اچانک ان کی ایک ٹیم نے مسجد کا دورہ کیا تو اس کے چاروں اطراف میں باڑ لگی ہوئی دیکھی، قریب جانے پر معلوم ہوا کہ مسجد پر فوجی رنگ کا پینٹ کر دیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد کو فوجی میوزیم میں تبدیل کرنا اسرائیلی حکومت کی اسلام دشمنی کی واضح مثال ہے۔ مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کی یہ سازش خود صہیونی عدالت کے فیصلے کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ادھر دوسری جانب صہیونی حکومت کی جانب سے مسجد کو میوزیم میں تبدیل کرنے کے خلاف بئرسبع میں مقامی فلسطینی آبادی نے سخت احتجاج کیا ہے۔ فلسطینی شہریوں نے مسجد کو فوری طور پر بحال کرنے اور اس کےاندر رکھی گئی تمام ثقافتی اور یہودی تاریخی نودارات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں گذشتہ کچھ عرصے سے مساجد کے خلاف ایک نئی صہیونی مہم چل رہی ہے۔ اس مہم کےتحت جہاں ایک جانب یہودی آباد کار مساجد پر حملے کر کے انہیں نذرآتش کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب اسرائیلی حکومت مساجد کو معبدوں اور عجائب گھروں میں تبدیل کرنے کی سازشوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار