ترک روزنامے “الصباح” کے مطابق سھیلہ تفکجی نامی خاتون شامی انٹلیجنس اداروں کے لئے کام کرتی تھیں۔ وہ شامی سرحدی علاقے ھاتائی میں بشار الاسد فوج سے منحرف اور بھگوڑے فوجیوں کے کیمپ سے بریگیڈئر الاسعد کو اغوا کرنے آئیں۔
اخبار کے مطابق معلومات اپنے اہداف کے بارے میں جمع کرنے کی خاطر تفکجی کی ایک اور شامی نے بھی مدد کی۔ اس دوران ترک فوج کے خفیہ اداروں کا ایک افسر ان دونوں کا پیچھا کرتا رہا اور انتہائی باریک بینی سے ان کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے کے بعد تفکجی کو گزشتہ ہفتے حراست میں لے لیا گیا۔
متعدد ترکوں کو بھی تفکجی کو مدد فراہم کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا جو اغوا کی ناکام کارروائی میں ان کی مدد کر رہے تھے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام