ترک روزنامے “الصباح” کے مطابق سھیلہ تفکجی نامی خاتون شامی انٹلیجنس اداروں کے لئے کام کرتی تھیں۔ وہ شامی سرحدی علاقے ھاتائی میں بشار الاسد فوج سے منحرف اور بھگوڑے فوجیوں کے کیمپ سے بریگیڈئر الاسعد کو اغوا کرنے آئیں۔
اخبار کے مطابق معلومات اپنے اہداف کے بارے میں جمع کرنے کی خاطر تفکجی کی ایک اور شامی نے بھی مدد کی۔ اس دوران ترک فوج کے خفیہ اداروں کا ایک افسر ان دونوں کا پیچھا کرتا رہا اور انتہائی باریک بینی سے ان کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے کے بعد تفکجی کو گزشتہ ہفتے حراست میں لے لیا گیا۔
متعدد ترکوں کو بھی تفکجی کو مدد فراہم کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا جو اغوا کی ناکام کارروائی میں ان کی مدد کر رہے تھے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید