ترک روزنامے “الصباح” کے مطابق سھیلہ تفکجی نامی خاتون شامی انٹلیجنس اداروں کے لئے کام کرتی تھیں۔ وہ شامی سرحدی علاقے ھاتائی میں بشار الاسد فوج سے منحرف اور بھگوڑے فوجیوں کے کیمپ سے بریگیڈئر الاسعد کو اغوا کرنے آئیں۔
اخبار کے مطابق معلومات اپنے اہداف کے بارے میں جمع کرنے کی خاطر تفکجی کی ایک اور شامی نے بھی مدد کی۔ اس دوران ترک فوج کے خفیہ اداروں کا ایک افسر ان دونوں کا پیچھا کرتا رہا اور انتہائی باریک بینی سے ان کی سرگرمیاں مانیٹر کرنے کے بعد تفکجی کو گزشتہ ہفتے حراست میں لے لیا گیا۔
متعدد ترکوں کو بھی تفکجی کو مدد فراہم کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا جو اغوا کی ناکام کارروائی میں ان کی مدد کر رہے تھے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار