بی بی سی کے مطابق نائجیریا کی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ازوبوکی کا کہنا ہے کہ داماترو شہر میں ایک طویل جھڑپ کے دوران باکو حرام نامی تنظیم کے پچاس شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔یوبز کے پولیس سربراہ لاون ٹانکو نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے میں دو فوجی اور سات پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ایک دوسرے واقعے میں ایک جھڑپ کے دوران میڈوگوری شہر میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔نائجیریا کی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بوکو حرم شدت پسند اکثر اوقات سکیورٹی فورسز اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔انہوں نے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ شدت پسند جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے اور انہوں نے ہمارے سپاہیوں پر حملہ کر دیا۔ جس سے اموات واقع ہوئیں جبکہ آزاد ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق نائجیریا میں جھڑپوں کے دوران سو سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں تاہم نائجیریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ان جھڑپوں میں اب تک صرف ستر افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے ۔
علاوہ ازیں کرسمس کے موقع پر مختلف مقامات پر تین بم دھماکوں کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 28 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔ عسکریت پسند فرقے بوکو حرام نے بم حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار