مرحوم ملاعبدالمجید موحد نے چھ یا سات سال کی عمرسے ابتدائی تعلیم کے حصول کا آغازکیا۔ آپ کا پہلا معلم ان کے چچازاد بھائی ملا احمدنادری تھے۔ جب بارہ سال کے تھے آپ کی والدہ کا انتقال ہوا، ٹھیک ایک ہفتے بعد آپ کے والدمکرم اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔ اس کے بعد آپ کے بڑے بھائی ’’حاج کریم‘‘ نے آپ کی سرپرستی کی۔
والدین کی وفات سے آپ کو شدید دھچکا لگا، چانچہ آپ نے ایک عرصے تک تعلیم چھوڑدی۔ پھر ایک پڑوسی جس کا نام ’’خلیفہ احمد پیروزہ ای‘‘ تھا نے ان کو تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دی اور انہیں ان کے والد کی دینی تعلیم کیلیے بے انتہا خواہش اور شغف کی یاد دلائی، نتیجتا آپ نے ازسرِنو تعلیم کا حصول شروع فرمایا۔
ملاعبدالمجید موحد نے مسلسل کئی برس تک حصول علم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایران و عراق کے متعدد ممتاز علما و مدرسین سے فیض حاصل کیا۔ یہاں تک کہ آپ عراق میں ملا عبدالکریم مدرس کے مدرسے سے سندفراغت حاصل کی جو ’’بیارہ‘‘ میں مشائخ نقشبندیہ کا مرکز تھا۔ مرحوم ملاعبدالکریم نے آپ کو فتوا دینے اور دینی علوم کی تدریس کی اجازت عطا کی۔
ملا فيض الله كوره دره، ملا اسعد پايگلان، شيخ حسن نقشبندي، شيخ عبدالكريم اسکندری، ملا حسنِ هانه سور اور علامه ملا عبدالكريم مدرّس آپ کے مشہور اساتذه ہیں.
جس سال میں ملاعبدالکریم نے سندفراغت و افتا حاصل کیا، اسی سال میں ’’روانسر‘‘ کے علاقہ ’’دولت آباد‘‘ میں سرگرم عالم دین ملاعبدالرحیم روحانی کا انتقال ہوا۔ چانچہ ملا عبدالکریم نے برسوں تک دینی تعلیم کے حصول کے بعد 1946ء میں دولت آباد منتقل ہوئے جہاں 55برس تک آپ نے علاقے میں اسلام و مسلمانوں کی خدمت کی اور تدریسی و تبلیغی سرگرمیوں سے دین کے سرچشموں سے لوگوں کو سیراب فرمایا۔
مرحوم کی جہد مسلسل سے ’’اُرامانت‘‘ کے خطے کے علاوہ پورے کردستان اور مغربی ایران میں رہنے والے سنی مسلمانوں کو فائدہ پہنچا۔ بیسیوں طلبہ نے آپ سے سندفراغت حاصل کی اور خدمت دین میں مصروف ہوگئے۔ خاندانی و قبائلی تنازعات کا تصفیہ، قضاوت و ثالثی اور خودساختہ قبائلی رسومات کا مقابلہ کرنا اور شریعت کی رو سے فیصلہ کرنا ان کی شاندار خدمات میں شامل ہیں۔ آپ اس سلسلے میں ہمیشہ بہادری کا مظاہرہ کرتے اور کسی حق بات پر سمجھوتہ کے قائل نہیں تھے۔
ملاعبدالمجید نے متعدد کردی و عربی کتابیں تصنیف کرکے مسلم معاشرے کی خدمت کی۔ آپ کی بعض تصانیف میں ’منظومہ لمحہ ربانی‘ (عربی)، ’لمحہ ربانی‘ (کردی)، ’رسالہ ای درتجوید‘ (کردی) اور ’منظومہ جبر واختیار‘ شامل ہیں۔
ایک سو چاربرس بابرکت عمر پانے اور عشروں تک اسلام و مسلمانوں کی بے لوث خدمت کے بعد مرحوم ملا عبدالمجیدموحد نادری یکم جولائی 2008ء کو بروز منگل اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالی ان کی مکمل مغفرت فرماکر انہیں شہدا وصدیقین اور صلحا کے ساتھ محشور فرمائے۔ آمین
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام