ممتازکرد عالم دین ملاعبدالمجید موحد نادری رحمہ اللہ

خطہ کردستان کے نامور عالم دین اور قافلہ حق کے شہسوار ملاعبدالمجید موحد کا تعلق ’’نادری‘‘ قبیلے سے تھا۔ ان کی پیدائش 1904ء میں ایرانی کردستان کے شہر جوانرود کی بستی ’’پیروزہ‘‘ میں ہوئی۔ آپ کے والد ’’باویس‘‘ ولد ’’فقیہ محمود‘‘ کی نسبت ’’پیر میکائیل دودانی‘‘ سے لگتی ہے۔ آپ کاخاندان علمائے کرام کا خاندان تھا جو خطے کی دینی رہنمائی ان کی ذمہ داری تھی۔

مرحوم ملاعبدالمجید موحد نے چھ یا سات سال کی عمرسے ابتدائی تعلیم کے حصول کا آغازکیا۔ آپ کا پہلا معلم ان کے چچازاد بھائی ملا احمدنادری تھے۔ جب بارہ سال کے تھے آپ کی والدہ کا انتقال ہوا، ٹھیک ایک ہفتے بعد آپ کے والدمکرم اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے۔ اس کے بعد آپ کے بڑے بھائی ’’حاج کریم‘‘ نے آپ کی سرپرستی کی۔

والدین کی وفات سے آپ کو شدید دھچکا لگا، چانچہ آپ نے ایک عرصے تک تعلیم چھوڑدی۔ پھر ایک پڑوسی جس کا نام ’’خلیفہ احمد پیروزہ ای‘‘ تھا نے ان کو تعلیم جاری رکھنے کی ترغیب دی اور انہیں ان کے والد کی دینی تعلیم کیلیے بے انتہا خواہش اور شغف کی یاد دلائی، نتیجتا آپ نے ازسرِنو تعلیم کا حصول شروع فرمایا۔

ملاعبدالمجید موحد نے مسلسل کئی برس تک حصول علم کا سلسلہ جاری رکھا اور ایران و عراق کے متعدد ممتاز علما و مدرسین سے فیض حاصل کیا۔ یہاں تک کہ آپ عراق میں ملا عبدالکریم مدرس کے مدرسے سے سندفراغت حاصل کی جو ’’بیارہ‘‘ میں مشائخ نقشبندیہ کا مرکز تھا۔ مرحوم ملاعبدالکریم نے آپ کو فتوا دینے اور دینی علوم کی تدریس کی اجازت عطا کی۔

ملا فيض الله كوره دره، ملا اسعد پايگلان، شيخ حسن نقشبندي، شيخ عبدالكريم اسکندری، ملا حسنِ هانه سور اور علامه ملا عبدالكريم مدرّس آپ کے مشہور اساتذه ہیں.

جس سال میں ملاعبدالکریم نے سندفراغت و افتا حاصل کیا، اسی سال میں ’’روانسر‘‘ کے علاقہ ’’دولت آباد‘‘ میں سرگرم عالم دین ملاعبدالرحیم روحانی کا انتقال ہوا۔ چانچہ ملا عبدالکریم نے برسوں تک دینی تعلیم کے حصول کے بعد 1946ء میں دولت آباد منتقل ہوئے جہاں 55برس تک آپ نے علاقے میں اسلام و مسلمانوں کی خدمت کی اور تدریسی و تبلیغی سرگرمیوں سے دین کے سرچشموں سے لوگوں کو سیراب فرمایا۔

مرحوم کی جہد مسلسل سے ’’اُرامانت‘‘ کے خطے کے علاوہ پورے کردستان اور مغربی ایران میں رہنے والے سنی مسلمانوں کو فائدہ پہنچا۔ بیسیوں طلبہ نے آپ سے سندفراغت حاصل کی اور خدمت دین میں مصروف ہوگئے۔ خاندانی و قبائلی تنازعات کا تصفیہ، قضاوت و ثالثی اور خودساختہ قبائلی رسومات کا مقابلہ کرنا اور شریعت کی رو سے فیصلہ کرنا ان کی شاندار خدمات میں شامل ہیں۔ آپ اس سلسلے میں ہمیشہ بہادری کا مظاہرہ کرتے اور کسی حق بات پر سمجھوتہ کے قائل نہیں تھے۔

ملاعبدالمجید نے متعدد کردی و عربی کتابیں تصنیف کرکے مسلم معاشرے کی خدمت کی۔ آپ کی بعض تصانیف میں ’منظومہ لمحہ ربانی‘ (عربی)، ’لمحہ ربانی‘ (کردی)، ’رسالہ ای درتجوید‘ (کردی) اور ’منظومہ جبر واختیار‘ شامل ہیں۔

ایک سو چاربرس بابرکت عمر پانے اور عشروں تک اسلام و مسلمانوں کی بے لوث خدمت کے بعد مرحوم ملا عبدالمجیدموحد نادری یکم جولائی 2008ء کو بروز منگل اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اللہ تعالی ان کی مکمل مغفرت فرماکر انہیں شہدا وصدیقین اور صلحا کے ساتھ محشور فرمائے۔ آمین

modiryat urdu

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago