انہوں نے کہا اللہ رب العزت نے اپنے بندوں سے اپنی عبادت چاہی ہے، البتہ یہ عبادت قرآن و سنت کی رو سے سو فیصد اللہ ہی کیلیے ہونی چاہیے۔ اللہ تعالی کے نزدیک بغیر اخلاص کی عبادات کی کوئی قیمت نہیں، ریا ایک قلبی گناہ ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا اخلاص، تواضع اور ان جیسی عبادات کا تعلق قلب اور دل سے ہے، زبان سے کوئی اخلاص کا دعوی نہیں کرسکتا۔ چونکہ اخلاص کا تعلق دل سے ہے زبان سے نہیں۔ ارشاد نبوی علیہ السلام ہے کہ اللہ تعالی تمہاری شکلوں اور جسموں کی جانب نہیں دیکھتا، بلکہ اعتبار دل اور عمل کا ہے۔
مولانا اسماعیل زئی نے زور دیتے ہوئے کہا جو قاری، عالم، مجاہد، داعی اور کوئی بھی نیک کام کرنے والا اللہ کیلیے اچھائی نہ کرے بلکہ اس کے دل میں ریا ہو تو اس کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے کہ جب دل فاسد ہو تو پورا جسم فاسد ہوگا اور جب دل ٹھیک ہو تو پورا جسم ٹھیک ہوگا۔
عید الاضحی کے اعمال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: عید کے دن سب سے بہترین اور افضل کام قربانی کے جانور کے ذبح ہے۔ اس لیے کوشش کریں کوئی اچھا اور مہنگا جانور قربانی کریں۔ عیدگاہ میں تکبیر کہتے ہوئے تشریف لائیں، نیا یا کم ازکم اچھا اور صاف کپڑا پہن کر عیدگاہ میں جمع ہوں۔ خوشبو لگاکر آنا بھی مستحب ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے تاکید کی کہ قرآن کے مطابق تمہاری قربانی کا گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہنچتا بلکہ تقوی اور اخلاص اللہ کے یہاں معتبر ہے۔ اس لیے قربانی کا جانور خالص اللہ کی رضامندی کیلیے ذبح کریں۔ نہم ذی الحجہ کی فجر سے لیکر تیرہ ذی الحجہ کے عصر تک ہر فرض نماز کے بعد تکبیرات تشریق اونچی آواز سے کہیں۔ نویں ذی الحجہ کو روزہ رکھنا سنت ہے۔ اس دن کا روزہ دوسالوں کے روزے کے برابر ہے۔ یہ سارے کام سنت ہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید