ؔ ’’سنی آن لائن‘‘ کے ذرائع کے مطابق حافظ محمداسماعیل کی یزد جیل منتقلی اچانک واقع ہوئی، انہیں گزشتہ سال یکم نومبر کو انٹیلیجنس حکام نے زاہدان میں گرفتارکیاتھا جو کئی مہینوں تک ٹرائل کے بغیر انٹیلیجنس حکام کی قید میں رہیں۔
بالاخر زاہدان کی ایک مقامی عدالت نے حافظ محمداسماعیل کو دس برس قید کی سزا سنائی جن سے چار برس معطل تھے۔ ان پر سعودی حکومت سے تعلقات سمیت دیگر بے بنیاد الزامات تھے۔
یاد رہے عدالتی فیصلے میں ان کی جلاوطنی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، اس کے باوجود انٹیلیجنس حکام نے انہیں اچانک زاہدان جیل سے یزد منتقل کیا ہے جو قانون کے خلاف اقدام ہے۔ یزد شہر زاہدان سے 890 کلومیٹر دور ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…