ؔ ’’سنی آن لائن‘‘ کے ذرائع کے مطابق حافظ محمداسماعیل کی یزد جیل منتقلی اچانک واقع ہوئی، انہیں گزشتہ سال یکم نومبر کو انٹیلیجنس حکام نے زاہدان میں گرفتارکیاتھا جو کئی مہینوں تک ٹرائل کے بغیر انٹیلیجنس حکام کی قید میں رہیں۔
بالاخر زاہدان کی ایک مقامی عدالت نے حافظ محمداسماعیل کو دس برس قید کی سزا سنائی جن سے چار برس معطل تھے۔ ان پر سعودی حکومت سے تعلقات سمیت دیگر بے بنیاد الزامات تھے۔
یاد رہے عدالتی فیصلے میں ان کی جلاوطنی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا، اس کے باوجود انٹیلیجنس حکام نے انہیں اچانک زاہدان جیل سے یزد منتقل کیا ہے جو قانون کے خلاف اقدام ہے۔ یزد شہر زاہدان سے 890 کلومیٹر دور ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید