’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق دارالعلوم زاہدان کے سینئر استاذ، سرپرست دارالافتاء دارالعلوم اور ندائے اسلام میگزین کے مدیر مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی فریضہ حج کی ادائیگی کے سلسلے میں احرام باندھ کر زاہدان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تھے کہ انہیں سکیورٹی حکام نے آگے جانے سے روک دیا جبکہ ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کیاگیا۔
اس دوران دارالعلوم زاہدان کے استاذ الحدیث اور نائب خطیب اہل سنت زاہدان مولانا احمد ناروئی کو سکیورٹی حکام نے تہران انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حرمین شریفین کی زیارت سے روک دی۔
یاد رہے مذکورہ علمائے کرام عوام میں انتہائی مقبول اورمستندسمجھے جاتے ہیں جن کی سرگرمیاں خالص علمی و دعوتی ہیں؛ چنانچہ حکومت کے اس غیرمنصفانہ اقدام سے خطے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور لوگوں میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مفتی قاسمی تہران سے جبری واپسی کے بعد کئی دنوں تک احرام میں رہے اور اسی حالت میں عوامی مقامات میں ظاہر ہوئے جس سے طلباء و متعلقین آبدیدہ ہوگئے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید