ایک مقامی نیوز ویب سائٹ، ’’ہرمزگان نیوز‘‘ کے مطابق شیخ رکنی، خطیب اہل تشیع بندرلنگہ نے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر ‘‘ کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مجھے ان افراد کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، یہ لوگ اپنی طرف سے بلاوجہ اہل سنت کی جائیدادوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ان کے بعض ترقیاتی منصوبوں کو روکتے ہیں۔
’کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ہے؟ کن بنیادوں پر یہ افراد لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ جماتے ہیں اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کو بند کرتے ہیں؟‘ مسٹر رکنی نے سوال اٹھایا۔
یاد رہے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر‘‘ 1989ء میں سابق ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے آرڈر پر تاسیس ہوئی جس کا کام آئین کے آرٹیکل 49 کا نفاذ تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق سابق رجیم کے پہلوی خاندان کے متعلقین کی جائیدادوں کو حکومتی مصارف کیلیے مقبوضہ بنایاجائے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان