ایک مقامی نیوز ویب سائٹ، ’’ہرمزگان نیوز‘‘ کے مطابق شیخ رکنی، خطیب اہل تشیع بندرلنگہ نے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر ‘‘ کے ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مجھے ان افراد کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، یہ لوگ اپنی طرف سے بلاوجہ اہل سنت کی جائیدادوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ان کے بعض ترقیاتی منصوبوں کو روکتے ہیں۔
’کیا اس شہر میں کوئی قانون نہیں ہے؟ کن بنیادوں پر یہ افراد لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ جماتے ہیں اور ان کے ترقیاتی منصوبوں کو بند کرتے ہیں؟‘ مسٹر رکنی نے سوال اٹھایا۔
یاد رہے ’’سنٹر برائے حضرت امام چارٹر‘‘ 1989ء میں سابق ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے آرڈر پر تاسیس ہوئی جس کا کام آئین کے آرٹیکل 49 کا نفاذ تھا۔ اس آرٹیکل کے مطابق سابق رجیم کے پہلوی خاندان کے متعلقین کی جائیدادوں کو حکومتی مصارف کیلیے مقبوضہ بنایاجائے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار