کابل کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں گذشتہ دوہفتے میں امریکیوں پر یہ دوسرا حملہ ہے۔سی آئی اے کے کمپاؤنڈ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں اور گذشتہ ایک عشرے میں کسی بھی عام شہری کو اس کی عمارت اور اس کے آس پاس کے علاقے کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ امریکی شہروں کو کسی ”بھوت” ملازم نے اپنی گولی کا نشانہ بنایا ہے یا ان کے درمیان کوئی تلخ جملوں کا تبادلہ ہواتھا جس کے بعد افغان شہری نے مشتعل ہوکر فائرنگ کردی ہے۔
امریکی سفارت خانے کے ترجمان گاوین سنڈوال نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ”تنہا حملہ آور”کو قتل اور زخمی امریکی شہری کو ایک فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ ”کابل میں امریکی سفارت خانے کے ایک اضافی حصے میں اتوار کی رات فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔اس میں ملوث ایک افغان ملازم کو قتل کردیا گیا ہے اورحملے کے محرک کی تحقیقات کی جارہی ہے”۔
کابل میں قائم افغان تجزیہ اور مشاورتی سنٹر کے تجزیہ کار وحید مجاہد نے کہا ہے کہ اس واقعے سے امریکا اور اس کے افغان اتحادیوں کے درمیان عدم اعتماد کی سطح کا اظہار ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس طرح کا یہ واقعہ نہ تو پہلی مرتبہ رونما ہواہے اور نہ یہ آخری واقعہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”یہ امریکیوں کے لیے ایک بڑی تشویش کا سبب واقعہ ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اپنے افغان عملے پر مکمل طور پر اعتماد نہیں کرسکتے لیکن امریکی کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ ان کے اور افغان فورسز کے درمیان سکیورٹی آپریشنز کے دوران اعتماد کا کوئی سنجیدہ مسئلہ پیدا ہو”۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام