مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار الاقصیٰ یونیورسٹی کے سترویں کانووکیشن سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا اسرائیل اس وقت اندرونی طور پر بد ترین انتشار اور پھوٹ کا شکار ہے۔ صہیونی ریاست کے حامی اور اس کے پشتیبان اسرائیل کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن تاریخ نے اب فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ اسرائیل جلد دنیا کے نقشے سے مٹ جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں چلنے والی انقلاب کی تحریکوں سے فلسطینی قوم، القدس اور قبلہ اول کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔ عرب ممالک کے انقلابات نے روشنی کی ایک نئی کرن ہمارے اندر پھونک دی ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی منزل قریب دکھائی دینے لگی ہے اور ان کے حوصلے پہلے سے کہیں زیاہ بلند ہیں۔ آنے والے وقت میں فلسطینیوں کے لیے خطے کے ممالک سے امید افزا ہوائیں آئیں گی۔
اسماعیل ھنیہ نے یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخلے اور فوج اور پولیس کی نگرانی میں قبلہ اول کی بے حرمتی پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہودیوں کو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اسرائیل اب زوال کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور مسجد اقصیٰ پر حملے کر کے خود کو اطمینان دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید