اس کارروائی میں عطیہ المصراتی کے ہمراہ چار دوسرے مقامی افراد بھی لقمہ اجل بنے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد کا تعلق افغان طالبان سے تعاون کرنے والے گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
القاعدہ کے کمانڈر عطیہ المصراتی کے سر کی قیمت دس لاکھ امریکی ڈالرز مقرر تھی۔ اس کا حقیقی نام جمال ابراھیم اشتوی ہے۔ ان کا تعلق لیبیا کے شہر مصراتۃ سے ہے اور وہ پاکستان میں القاعدہ کے اہم کمانڈر تھے۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کو ان کے جانشین مقرر کرنے کے بعد القاعدہ نے اپنے سیکنڈ ان کمان نے نام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان