اس کارروائی میں عطیہ المصراتی کے ہمراہ چار دوسرے مقامی افراد بھی لقمہ اجل بنے۔ ہلاک ہونے والے ان افراد کا تعلق افغان طالبان سے تعاون کرنے والے گل بہادر گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
القاعدہ کے کمانڈر عطیہ المصراتی کے سر کی قیمت دس لاکھ امریکی ڈالرز مقرر تھی۔ اس کا حقیقی نام جمال ابراھیم اشتوی ہے۔ ان کا تعلق لیبیا کے شہر مصراتۃ سے ہے اور وہ پاکستان میں القاعدہ کے اہم کمانڈر تھے۔ یاد رہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کو ان کے جانشین مقرر کرنے کے بعد القاعدہ نے اپنے سیکنڈ ان کمان نے نام کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا تھا۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام