جنرل عبدالرزاق نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے اپنی پگڑی میں چھپائے گئے دھماکا خیز مواد کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب میئر حیدری اس کے سامنے آئے۔ مقتول حملے کے وقت بلدیہ کی عمارت میں افغان شہریوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے۔
اجلاس میں شریک افراد نے بتایا کہ غلام حیدر افغان شہریوں کے درمیان زمین کے ایک تنازعے کے بارے میں طرفین کا موقف سن رہے تھے کہ اس دوران خودکش بمبار نے دھماکا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق زمین کے تنازعے پر اپنی رائے دیتے ہوئے مسٹر حیدری کہا کہ جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر اراضی پر قبضہ کیا ہے ان کے گھر مسمار کر دئیے جائیں۔
اس ماہ افغانستان میں پہلے ہی دو اہم سربراہ، جان محمد خان اور احمد ولی کرزئی، کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق میئر حمیدی قندھار میں احمد ولی کرزئی کی جگہ گورنر کے امیدوار تصور کیے جاتے تھے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام