جنرل عبدالرزاق نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے اپنی پگڑی میں چھپائے گئے دھماکا خیز مواد کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب میئر حیدری اس کے سامنے آئے۔ مقتول حملے کے وقت بلدیہ کی عمارت میں افغان شہریوں کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے تھے۔
اجلاس میں شریک افراد نے بتایا کہ غلام حیدر افغان شہریوں کے درمیان زمین کے ایک تنازعے کے بارے میں طرفین کا موقف سن رہے تھے کہ اس دوران خودکش بمبار نے دھماکا کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق زمین کے تنازعے پر اپنی رائے دیتے ہوئے مسٹر حیدری کہا کہ جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر اراضی پر قبضہ کیا ہے ان کے گھر مسمار کر دئیے جائیں۔
اس ماہ افغانستان میں پہلے ہی دو اہم سربراہ، جان محمد خان اور احمد ولی کرزئی، کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق میئر حمیدی قندھار میں احمد ولی کرزئی کی جگہ گورنر کے امیدوار تصور کیے جاتے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان