العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ارسال کردہ ایک بیان میں علامہ العوضی کا کہنا ہے کہ انہیں وزارت اوقاف کا امتناعی حکمنانہ دیکھ کر حیرت ہوئی ہے۔ وہ توقع کر رہے تھے کہ شامی حکومت کے اپنے عوام کے خلاف مظالم کا پردہ چاک کرنے پر کویتی حکومت ان کا شکریہ ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کویتی وزارت اوقاف کی جانب سے میرے جمعہ پڑھانے پر تو پابندی لگائی گئی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ میرے درس اور لیکچر دینے پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔ یہ فیصلہ حکومت کے دوہرے معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء کو سیاسی، معاشی اور سوشل معاملات پر گفتگو کی اجازت نہ دینا قرآنی حکم امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر پابندی کے زمرے میں آتا ہے۔ برائی سے روکنے پر پابندی عائد کرنا دراصل زندگی سے دین کو خارج کرنا ہے۔
علامہ العوضی نے کویتی پارلیمنٹ کی توجہ “میثاق المسجد” کی جانب مبذول کراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس معاہدے میں علماء کے علم اور اطلاع کے بغیر اسی باتیں شامل کی گئیں ہیں کہ جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں سیاست اور دین الگ الگ نہیں مگر میثاق المسجد میں انہیں الگ کیا گیا ہے، جو دراصل سیکولر سوچ کی غمازی کرتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو چاہئے کہ وہ ایسے قوانین کو فوری طور پر تبدیل کریں۔
انہوں نے بتایا کہ کویت کے متعدد قانون دانوں نے ان سے رابطہ کر کے وزارت اوقاف کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم علامہ العوضی نے بتایا کہ میں نے ابھی اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ امسال رمضان المبارک کے دوران وہ ٹی وی پروگرام نہیں کریں گے۔ بہ قول العوضی اس فیصلے کا جمعہ پڑھانے پر پابندی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ فیصلہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید