یہ اخلاقی اصولوں پر مبنی غیر استحصالی نظام ہے اس میں جو بھی رقم کاروبار میں لگائی جاتی ہے وہ سود، جوا، لاٹری، سٹہ، حرام چیزوں کی خرید و فروخت اور بے حیائی جیسے کاروبار سے پاک ہوتی ہے نیز اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ حقیقی کاروبار ہو تاکہ پیداوار بڑھے اور عام لوگوں کا استحصال نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا کاروبار اب ملین اور بلین سے بڑھ کر کئی ٹریلین تک جا پہنچا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے تجارتی مراکز مثلاً برطانیہ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائشیا، متحدہ عرب امارات، بحرین اور جنوبی افریقہ میں بھی اسلامی بینکنگ کا نظام روز بروز آگے بڑھ رہا ہے۔
مغرب میں کئی عام بینکوں نے اسلامی کھاتے کھولے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں 435 ادارے ایسے ہیں جو یہ نظام پوری طرح چلا رہے ہیں اس کے علاوہ کئی عام بینکوں نے بھی اسلامی طریقے اپنائے ہیں۔
اس نظام میں کچھ ممالک میں مشکلات بھی ہیں، سب سے بڑی مشکل تو ماہرین کی کمی ہے خاص طور پر ان ماہرین کی کمی جو مروجہ بینکاری نظام کے ساتھ ساتھ اسلامی شریعت سے بھی واقف ہوں کیونکہ موجودہ دور میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خصوصی مہارت کا ہونا ضروری ہے۔
مارک فیلڈ انسٹیٹیوٹ کے ریکٹر ڈاکٹر مناظر احسن نے کہا کہ معلم سنوسی اس تقریب کیلئے خاص طور پر تشریف لائے ہیں جو ہمارے لئے اعزاز ہے۔ اس پروگرام میں طلبا کے علاوہ عام لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید