Categories: مشرق وسطی

شام:بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں، 7افراد ہلاک

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں) شام کے تین شہروں میں صدر بشارالاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں جبکہ شامی صدر نے اپنے خلاف مظاہرے کرنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وسطی شہر حمص ،حمہ اور صوبے دیرالزور میں واقع شہر مدین میں فوج اور سکیورٹی فورسز نے صدربشارالاسد کے حامیوں کا ساتھ دیا ہے اور انھوں نے مخالفین پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں سات افراد مارے گئے ہیں۔ مدین کے ایک مکین نے بتایا ہے کہ ”یہ کہنا مشکل ہے پہلے فائرنگ کس نے شروع کی تھی لیکن بکتربند گاڑیوں پر سوار فوج نے اسد مخالف مظاہرے میں شریک افراد پر فائرنگ کردی تھی جس سے ایک شخص ہلاک اور سات شدید زخمی ہوگئے”۔
حمص کے دو مکینوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صدر اسد کے حق میں نکالی گئی ریلی کے مقابلے میں جلوس میں شریک افراد پر فائرنگ کردی جس سے دوافراد مارے گئے ہیں۔ملک کے سب سے بڑے شہر حلب میں بھی صدراسد کے حامیوں اور مخالفین نے ریلیاں نکالی ہیں۔
جنوبی شہر درعا اور حمہ میں بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر فائرنگ کی ہے۔اس شہر میں شامی صدر کے حق میں بھی ریلی نکالی گئی تھی جس میں مقامی لوگوں کے بہ قول سرکاری ملازمین اور سادہ کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی فورسز کے اہلکار شریک تھے اور انھیں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر وہ ریلی میں شریک نہ ہوئے تو انھیں برطرف کردیا جائے گا۔
شام کے سرکاری ٹیلی وژن پر دارالحکومت دمشق میں حکومت کے حق میں نکالی گئی ایک ریلی کی فوٹیج بھی نشر کی گئی ہے جس میں ہزاروں افراد صدر اسد کی تصاویر اٹھائے شریک ہیں اور وہ ان کے حق میں نعرے بازی کررہے ہیں۔

دوسری عام معافی
درایں اثناء شامی صدر نے اپنی حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ان کی جانب سے گذشتہ تین ہفتوں میں یہ دوسرا اعلان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوموار تک جرائم کے مرتکبین کو عام معافی دے دی جائے گی۔
شامی صدر کی عام معافی کے پہلے اعلان کے بعد جیلوں سے سیکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کردیا گیا تھا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہزاروں افراد اس وقت بھی جیلوں میں قید ہیں اور پہلے اعلان کے بعد سے مزید سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بشارالاسد نے گذشتہ روز جامعہ دمشق میں خطاب کرتے ہوئے میڈیا اور پارلیمانی انتخابات سے متعلق نئے قوانین وضح کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن مظاہرین اور تجزیہ کاروں نے ان کی تقریر کو مسترد کردیا ہے اور امریکا نے بھی کہا ہے کہ شامی صدر محض الفاظ پر اکتفا نہ کریں بلکہ عمل کرکے دکھائیں۔
شامی صدرنے کہا تھا کہ ملک میں تخریب کاری اور افراتفری کے ہوتے ہوئے کوئی اصلاحات نہیں ہوسکتی ہیں۔شام مشکل دنوں کے بعد ایک تبدیلی کے موڑ تک پہنچ چکا ہے اور وہ اپنے خلاف سازش کے مقابلے میں ایک مضبوط ملک بن کر ابھرے گا۔
بشارالاسد نے کہا کہ ”بہت جلد ایک طریق کار وضع ہونے کے بعد قومی مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا۔وہ وزارت انصاف سے مظاہرین کے لیے اعلان کردہ عام معافی کو وسعت دینے کا جائزہ لینے کے لیے کہیں گے”۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ”اہم بات یہ ہے کہ تخریب کاروں اور جائز مطالبات کے حامل افراد کے درمیان فرق کیا جائے”۔
واضح رہے کہ بشارالاسد غیر مسلح مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کے حملوں کو روکنے کے لیے عالمی برادری کی اپیلوں کو مسترد کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کی حکومت کا موقف ہے کہ صدر مخالف مظاہروں میں غیرملکی طاقتوں کا ہاتھ کارفرما ہے۔مختلف عالمی لیڈروں نے شامی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کی مذمت کی ہے۔
شام کی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی مارچ کے وسط سے پُرامن مظاہرین کے خلاف جاری کریک ڈاٶن کارروائیوں کے نتیجے چودہ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور دس ہزار سے زیادہ مطاہرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق اب تک خانہ جنگی کے نتیجے میں تین سو سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago