امریکا نے سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش کیں جنھیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پہلی قرارداد کے مطابق القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کی الگ الگ بلیک لسٹ بنائی جائے گی، پہلی فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پر القاعدہ کے ساتھ تعلق کا الزام ہوگا۔ جب کہ دوسری فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پرطالبان کیساتھ تعلق کا شبہ ہوگا۔
اس فہرست کی تیاری کے ذریعے مغربی ممالک یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ القاعدہ اور طالبان کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،دہشت گردی کیخلاف پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی کمیٹی کے سربراہ جرمن سفیر پیٹر وٹیگ نے کہا کہ اس کا ایک مقصد افغان حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کیلئے حمایت کا اظہار کرنا بھی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…