امریکا نے سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش کیں جنھیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پہلی قرارداد کے مطابق القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کی الگ الگ بلیک لسٹ بنائی جائے گی، پہلی فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پر القاعدہ کے ساتھ تعلق کا الزام ہوگا۔ جب کہ دوسری فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پرطالبان کیساتھ تعلق کا شبہ ہوگا۔
اس فہرست کی تیاری کے ذریعے مغربی ممالک یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ القاعدہ اور طالبان کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،دہشت گردی کیخلاف پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی کمیٹی کے سربراہ جرمن سفیر پیٹر وٹیگ نے کہا کہ اس کا ایک مقصد افغان حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کیلئے حمایت کا اظہار کرنا بھی ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید