امریکا نے سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش کیں جنھیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پہلی قرارداد کے مطابق القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کی الگ الگ بلیک لسٹ بنائی جائے گی، پہلی فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پر القاعدہ کے ساتھ تعلق کا الزام ہوگا۔ جب کہ دوسری فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پرطالبان کیساتھ تعلق کا شبہ ہوگا۔
اس فہرست کی تیاری کے ذریعے مغربی ممالک یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ القاعدہ اور طالبان کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،دہشت گردی کیخلاف پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی کمیٹی کے سربراہ جرمن سفیر پیٹر وٹیگ نے کہا کہ اس کا ایک مقصد افغان حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کیلئے حمایت کا اظہار کرنا بھی ہے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام