شام کی حزب اختلاف نے نمازجمعہ کے بعد صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کی اپیل کررکھی تھی اور ملک کے مختلف شہروں میں ہزاروں شامی شہریوں نے سرکاری سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ اور کریک ڈاٶن کارروائیوں کے خطرے کے باوجود مظاہروں میں شرکت کی ہے۔
نمازجمعہ کے بعد دارالحکومت دمشق، ساحلی شہر بانیاس ، جنوبی شہر درعا، وسطی شہر حمص اور دوسرے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں ہزاروں شہریوں نے صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہرے کیے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا.
زیادہ تر ہلاکتیں دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں ،شمال مغربہ صوبہ ادلیب، ساحلہ شہر للذاقیہ اور حوراں میدان میں ہوئی ہیں جہاں شامی سکیورٹی فورسز ٹینکوں کے ساتھ حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔اسد مخالف تحریک کا مرکز جنوبی شہر درعا میں سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے تین شہری جاں بحق ہو گئے۔
شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھنے والی “آبزرویٹری” کے ذرائع نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی “اے ایف پی” کو بتایا کہ مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج کی خاطر جمع ہونے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
دمشق کے علاقے القابون اور وسطی شہر حمص میں آزادی کے حق میں مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں کی ریکارڈنگ پر مشتمل ویڈیوزانٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی جا چکی ہے۔ شامی سکیورٹی فورسزنے جسرالشغورکا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس شہر کا مواصلاتی رابطہ ملک کے دوسرے حصوں سے منقطع ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید