ان نئے فردِ جرم کے بارے میں بدھ کو اعلان کیا جائے گا۔
ان پانچ افراد پر نائن الیون کے حملوں کے حوالے سے گوانتنامو میں فردِ جرم پہلے ہی عائد ہو چکی ہے۔ تاہم یہ فردِ جرم اس وقت ختم کردی گئی جب صدر اوباما کی انتظامیہ نے اس مقدمے کو سول عدالت میں لانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ فیصلہ اس سال اپریل میں واپس لے لیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ان پانچ افراد میں سے ہر ایک پر کم از کم آٹھ آٹھ نئے فردِ جرم عائد کیے جائیں گے۔ ان فردِ جرم میں جنگی قوانین کی خلاف ورزی، شہریوں پر حملے، جہاز کا اغوا اور دہشت گردی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلے سال ستمبر میں اوباما انتظامیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو کیوبا سے نیویارک منتقل کیا جائے گا تاکہ ان پر سول عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے۔
یہ فیصلہ صدر براک اوباما کی گوانتانامو کے حراستی مرکز میں مزید مشتبہ دہشت گرد نہ رکھنے کی کوششوں کی ایک کڑی تھی۔
تاہم ریپبلیکن رہنماؤں نے فوراً اس فیصلے پر تنقید شروع کر دی تھی۔
دو یمنی، ایک سعودی اور ایک پاکستان میں پیدا ہونے والے کویتی شہری خالد شیخ محمد کے ساتھ مقدمات کا سامنا کریں گے۔ امریکی فوج کے مطابق خالد شیخ محمد نائن الیون حملوں کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کر چکے ہیں۔
اب تک مقدمے کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی لیکن امریکی میڈیا کے مطابق زیرِ حراست مشتبہ افراد کو امریکہ منتقل کرنے کے لیے کانگریس کو کم از کم پینتالیس دن کا نوٹس دینا پڑتا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…