’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق زاہدان کی جامعات و یونیورسٹیزمیں سرگرم علمی وثقافتی انجمنیں ہرتعلیمی سال کے آخرمیں بلوچ گریجویٹس کے اعزازمیں تقریب کا اہتمام کرتی ہیں، لیکن اس سال صوبائی حکام کی مخالفت اور اجازت نہ دینے کی وجہ سے یہ تقریب منعقد نہیں ہوگی۔
سالانہ تقریب میں بلوچ پروفیسرز، لیکچرارز، علمائے کرام، فارغ التحصیل طلباء اور ان کے گھروالے شریک ہوتے ہیں جس میں اسلام میں علم کی اہمیت، طلباء کی حوصلہ افزائی اور گریجویٹس طلباء کو مزید اعلی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
’سنی آن لائن‘ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبائی حکام نے سخت مخالفت کے بعد بالاخر اس شرط پر تقریب کے انعقاد کی اجازت دی تھی کہ دارالعلوم زاہدان سے منسلک علمائے کرام تقریب میں شریک نہ ہوں، مجبور ہوکر تقریب کے منتظمین نے تنگ نظر حکام کی اس عجیب شرط کو بھی قبول کرلی تھی مگر اس کے باوجود متعلقہ حکام نے اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔
یاد رہے مذکورہ اعزازی تقریب خالصتا ایک علمی تقریب ہے جو مسلسل کئی برسوں سے ہر تعلیمی سال کے آخر میں منعقد ہوتی ہے، رواں تعلیمی سال میں پہلی مرتبہ یہ تقریب ممنوع قرار پائی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…