اٹلی اور فرانس کا شام سے مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال بند کرنے کا مطالبہ
شام میں حکومت مخالف ہونے والے مظاہروں میں پولیس کے ہاتھوں مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال پر عالمی سطح پر رد عمل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانیا اور امریکا کے بعد فرانس اور اٹلی نے بھی دمشق حکومت سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کا سلسلہ بند کرنے اور عوام کے جائز مطالبات پور ے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی نے منگل کو اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی سے روم میں ایک تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نماٶں نے شام میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں سویلین کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی اور مزید ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنےکا مطالبہ کیا۔
ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نیکولا سارکوزی نے کہا کہ انہیں شام میں موجودہ صورت حال قطعی طورپر قبول نہیں تاہم وہ سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر شام میں مداخلت کے لیےکوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔
اس موقع پر اطالوی وزیر اعظم برلسکونی نے بھی شام کی صورت حال کو مخدوش قرار دیتے ہوئے سولین کی ہلاکتوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر بشار الاسد پر تشدد واقعات کا ازخود نوٹس لیں اور ائندہ کے لیے یہ سلسلہ بند کیا جائے۔
قبل ازیں امریکا نے شام میں خراب صورت حال کے باعث اپنا غیر سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔ امریکا نے شام میں مقیم اپنے تمام شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ وہاں سے نکل ائیں۔ منگل کو واشنگٹن میں تعینات شامی سفیر عماد مصطفیٰ کو بھی وزارت خارجہ میں طلب کر کے دمشق میں پرامن مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر سخت احتجاج کیا گیا تھا۔
نئے اقدامات
ادھر دوسری جانب برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شام کےخلاف نئے اقدامات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ دمشق میں حکومت مخالف مظاہروں پر طاقت کا استعمال روکا جا سکے۔
منگل کو برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں کہا کہ “ان کا ملک شام کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں وہ اپنے عالمی دوستوں سے بھی صلاح مشورہ کر رہے ہیں کہ ایا شام میں حکومت مخالف مظاہروں پر تشدد کا راستہ کیسے روکا جا سکتا ہے”۔ انہوں نے مزیدکہا کہ شام میں انسانی آزادیوں، بنیادی حقوق کا احترام اور تشدد کی روک تھام کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
مسٹر ہیگ کا کہنا تھا کہ وہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبران اور یورپی یونین کے لیڈروں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں تا کہ صدر بشار الاسدکو تشدد رکوانے پر مجبور کرنے کے لیے انہیں سخت پیغام بھیجا جا سکے۔
خیال رہے کہ برطانوی وزیر خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب العربیہ کو اپنے ذرائع سے یہ معلوم ہوا تھا کہ برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے چار ممبر ممالک نے کونسل میں شام کےخلاف مذمتی قرارداد لانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام