سب کو حساب وکتاب اور آخرت کی فکر کرنی چاہیے
خطیب اہل سنت زاہدان نے آیت مبارکہ : ’’ وتوبوا الی اللہ جمیعاً أیھا المؤمنون لعلکم تفلحون‘‘، کی تلاوت کرتے ہوئے کہا اس آیت میں تمام مؤمنوں کو توبہ کاحکم ہے، یعنی علماء وطلبہ، پروفیسرز واسٹوڈنٹس، قبائلی عمائدین وسیاسی رہ نما اور حکام سے لیکر عام لوگوں تک سب کے سب اللہ تعالی کی جانب رجوع کریں۔ سارے لوگ آخرت کی فکر کریں، جنت کا حصول کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کیلیے کوشش اور شب بیداری کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا جنت کے چاہنے والے پوری رات سونے میں نہیں گزارتے کہ فجرکی نماز تک قضا کریں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی طالب جنت ہو اور نمازیں بھی قضا کرتے رہے، زکات ادا نہ کرے، غریب ونادار اور یتیموں کی مدد نہ کرے؟ جنت کا حصول ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کی نیک دعاؤں کی بھی ضروت پڑتی ہے۔
حضرت شیخ الاسلام نے تاکید فرمائی کہ لمبی راتیں غفلت میں نہیں گزرنی چاہییں۔ قبر کوئی آرام وراحت کی جگہ نہیں ہے۔ قبر ہم سب کی منزل ہے۔ اگر ہماری مغفرت کا احتمال موجود ہے تو عذاب وسزا کا امکان بھی منتفی نہیں ہے۔ اگر یہ دونوں احتمالات موجود ہوں پھر ایمان کامل ہے افسوس کی بات ہے کہ خوف خدا دلوں میں کمرنگ ہوچکاہے اور ہمارا عقیدہ وایمان سطحی ہے۔ جب دلی انقلاب حاصل ہوجائے پھر کامل ایمان حاصل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا موجودہ حالات میں ہم سب کو کسی بھی وقت سے زیادہ رجوع الی اللہ کی ضرورت ہے۔ شب زندہ داری اور عبادت کی زیادہ ضرورت ہے۔
مولانا عبدالحمید نے حاضرین کو ترغیب دی کہ خراب معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے شادی کی تقریبات سادگی سے منانی چاہیے۔ اسراف اور کمرتوڑ اخراجات سے گریز کرنا چاہیے۔ بیروزگاری ومہنگائی نے سب کو متاثرکیا ہے اس لیے شادی کا ارادہ رکھنے والے نوجوانوں پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید