’ہمیں اپنا اتحادی سمجھیں نہ کہ ملازم‘
اس معاملے پر امریکی سی آئی اے کے ترجمان جارج لیٹل کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان تعلقات مضبوط ہوئے ہیں اور جب بھی مسائل آتے ہیں تو انہیں مل کر حل کر لیا جاتا ہے۔
پاکستان اور امریکہ کی اعلیٰ فوجی قیادت کے درمیان اس ہفتے عمان میں ہونے والی ملاقات میں ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ بھی زیر غور آیا ہے۔ اس ملاقات میں امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائک مولن اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق کیانی بھی شریک تھے۔
پاکستانی فوج کے ایک سابق سربراہ جنرل جہانگیر کرامت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلقات میں خرابی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ جنرل جہانگیر کرامت لاہور میں ایک تحقیقاتی اور تجزیاتی ادارہ چلاتے ہیں۔
پاکستانی اہلکار کے مطابق آئی ایس آئی چاہتی ہے کہ امریکہ پاکستان میں کام کرنے والے سی آئی اے کے تمام کنٹریکٹرز کی تفصیلات فراہم کرے اور سی آئی اے کی پاکستان میں موجودگی کے جو اصول و ضوابط ہیں انہیں دوبارہ طے کیا جائے۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر لیون پنیٹا اور آئی ایس آئی کے سربرا جنرل احمد شجاع پاشا کے درمیان گزشتہ بدھ کو ہونے والی بات چیت اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ دونوں ادارے اس معاملے پر اختلافات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی اہلکار کے مطابق کچھ پاکستانی انٹیلی جنس آفیسرز ریمنڈ ڈیوس کو کسی بھی صورت میں رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو پاکستان کی انٹیلی جنس کمیونٹی میں اس معاملے پر اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے پاکستانی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستانی انٹیلیجنس میں دوسری رائے یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کیس کو امریکی شہر بروکلین میں جاری اس مقدمے کو ختم کرانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں نومبر دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے سلسلے میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کو ملوث کیا گیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں بے گھر افراد کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا…
قومی مفادات اور ایرانی عوام کی زندگی کو کسی دوسرے ملک یا قوم کے مفادات…