استیذان کیوں ضروری ہے؟
اس سوال کے جواب میں مولانا عبدالحمید نے کہا اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نگاہیں محفوظ رہیں گی۔ حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (رض) کے جواب میں فرمایا کہ اپنی والدہ کے گھر داخل ہونے سے پہلے بھی اجازت طلب کرنی چاہیے، کیا آپ کو پسند ہے کہ اپنی والدہ کو برہنہ حالت میں دیکھو؟ اس لیے ضرور اجازت مانگو۔
اس لیے آپ اپنے ہی ذاتی گھر میں جب داخل ہوتے ہیں تو کسی طرح مثلا یااللہ کہہ کر یا گلہ سے کوئی آواز نکال کر اپنی آمد کی اطلاع دیدیں، شاہد بیوی ایسی حالت میں ہوکہ شوہر اسے اس حال میں دیکھنا پسند نہ کرے یا اْسے پسند نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا البتہ عوامی مقامات میں جاتے ہوئے اجازت مانگنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ مسجد، اسکول، اسپتال یا سرکاری ادارے، لیکن کسی خاص دفتر میں جانے سے قبل اجازت طلب کرنا چاہیے۔ یہ سب اسلام کی خوبصورت تعالیم ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
خواتین زیب و زینت کو نامحرموں کیلیے ظاہر نہ کریں، لباس، جیولریز اور میک اپ سب صرف محرم مردوں کے سامنے ظاہر کیے جاسکتے ہیں، ان سب کو مناسب چادر سے چھپانا چاہیے پھر غیر محرموں کے سامنے ضرورت کے وقت نکلنا چاہیے۔ بوقت ضرورت نامحرم مردوں سے بات کرتے ہوئے خواتین اپنی آواز باریک نہ بنائیں بلکہ پوری سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انقلاب تیونس کاپیغام: فوجیں نہیں ’انصاف‘حکومت کی بقاکے ضامن
اپنے بیان کے دوسرے حصے میں جامع مسجدمکی کے نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے کہا تیونس کے غیورعوام نے ظلم وجبر کیخلاف انقلاب برپاکرکے پوری دنیاکے جابرحکمرانوں کو واضح پیغام دیاہے، کوئی بھی حاکم فوج اور مسلح اداروں کے بھروسے پر اپنی حکومت برقرار نہیں رکھ سکتی۔ حکومتوں کی بقا کیلیے انصاف کی فراہمی اور عوام کیساتھ عدل وانصاف والا رویہ اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے تیونسی عوام کی بہادری کو داد دیتے ہوئے مزید کہا تیونسی عوام نے اتحاد واتفاق اور بہادری سے کام لیتے ہوئے ایک ایسی حکومت کو برطرف کردیا جو ان کی بات سننے کیلیے بھی تیار نہ تھی۔ تیونس میں حقیقی معنوں میں ’عوامی اقتدار‘ کامظاہرہ ہوا جو تمام جابر وآمر حکمرانوں کیلیے، بشمول مسلم وغیرمسلم حکام کے، صریح وارننگ ہے۔ ایسے حکمران اگر عوامی مطالبات کو نہیں مانیں گے تو ان کا انجام ’بن علی‘ کے انجام سے مختلف نہیں ہوگا۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی جو حکومت عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آتی ہے اسے عوام کی خدمت کرنی چاہیے، ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی کی مشیت وہی ہے جو عوام کی چاہت ہوتی ہے۔ جب خدا کی مشیت پرعمل ہو تو عوامی مطالبات بھی پورے ہوجائیں گے، خاص طور پر جب وہ قوم مسلمان بھی ہو۔
عوامی مطالبات ومسائل سے غافل حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے نامور سنی رہنما نے مزیدکہا تیونس کے عوامی انقلاب نے ثابت کردیا اسلحہ کے زور پر حکومت نہیں کی جاسکتی، فوجیں بقائے اقتدار کے ضامن نہیں ہوسکتیں، اس لیے تمام حکمران خاص طور جابر وڈکٹیٹر حکام عوام کی رضامندی اور عدل وانصاف کو مدنظر رکھیں اور خدا اور اس کے بندوں کے قہر و غضب سے ڈریں، کوئی بھی حکومت اللہ تعالی اور لوگوں کے غضب وغصے کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا آج تمام عرب حکام خوفزدہ ہیں، تیونس کے عوامی انقلاب نے انہیں ہلاکر رکھ دیاہے، انہیں خوف ہے کہیں تیونس طرز کے مظاہرے ان کے ملکوں میں شروع نہ ہوجائیں۔ یہ صورتحال بلوچی ضرب المثل کے بالکل مصداق ہے کہ ’’بدنصیب آدمی کے بھیڑ کو بھیڑیا کھاتاہے، خوش نصیب آدمی چوکنا ہوجاتاہے۔‘‘ بن علی کے بھیڑ کو ’’بھیڑیا‘‘ نے کھالیا اب دیگر حکمران ہوش کے ناخن لیں کہیں ان کے بھیڑ کی باری نہ آئے۔
مکہ مکرمہ: حرمین میں لگی سنگ مرمر کی ٹائلوں کی نمائش کا اہتمام
ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو دو دو مرتبہ عمر قید کی سزا
مفاہمتی معاہدے پر دستخط سے ایرانی عوام خوش ہیں / ایک خوشحال اور بہتر ایران…
کوئی بھی کتاب قرآن جتنی اثرانگیز نہیں ہے / قرآن حق اور سعادت کے چاہنے…
زاہدان اور نواحی علاقوں کے علما، ائمہ مساجد اور قرآنی کارکنان کا ایک مشاورتی اجلاس…
مولانا مفتی محمدقاسم بنیکمال (قاسمی) کا نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر پیغام