انہوں نے تیونسی عوام کی بہادری کو داد دیتے ہوئے مزیدکہا تیونسی عوام نے اتحاد واتفاق اور بہادری سے کام لیتے ہوئے ایک ایسی حکومت کو برطرف کردیا جو ان کی بات سننے کیلیے بھی تیار نہ تھی۔ تیونس میں حقیقی معنوں میں ’عوامی اقتدار‘ کامظاہرہ ہوا جو تمام جابر وآمر حکمرانوں کیلیے، بشمول مسلم وغیرمسلم حکام کے، صریح وارننگ ہے۔ ایسے حکمران اگر عوامی مطالبات کو نہیں مانیں گے تو ان کا انجام ’بن علی‘ کے انجام سے مختلف نہیں ہوگا۔
مولانا عبدالحمید نے تاکید کی جو حکومت عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آتی ہے اسے عوام کی خدمت کرنی چاہیے، ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی کی مشیت وہی ہے جو عوام کی چاہت ہوتی ہے۔ جب خدا کی مشیت پرعمل ہو تو عوامی مطالبات بھی پورے ہوجائیں گے، خاص طور پر جب وہ قوم مسلمان بھی ہو۔
عوامی مطالبات ومسائل سے غافل حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے نامور سنی رہنما نے مزیدکہا تیونس کے عوامی انقلاب نے ثابت کردیا اسلحہ کے زور پر حکومت نہیں کی جاسکتی، فوجیں بقائے اقتدار کے ضامن نہیں ہوسکتیں، اس لیے تمام حکمران خاص طور جابر وڈکٹیٹر حکام عوام کی رضامندی اور عدل وانصاف کو مدنظر رکھیں اور خدا اور اس کے بندوں کے قہر و غضب سے ڈریں، کوئی بھی حکومت اللہ تعالی اور لوگوں کے غضب وغصے کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا آج تمام عرب حکام خوفزدہ ہیں، تیونس کے عوامی انقلاب نے انہیں ہلاکر رکھ دیاہے، انہیں خوف ہے کہیں تیونس طرز کے مظاہرے ان کے ملکوں میں شروع نہ ہوجائیں۔ یہ صورتحال بلوچی ضرب المثل کے بالکل مصداق ہے کہ ’’بدنصیب آدمی کے بھیڑ کو بھیڑیا کھاتاہے، خوش نصیب آدمی چوکنا ہوجاتاہے۔‘‘ بن علی کے بھیڑ کو ’’بھیڑیا‘‘ نے کھالیا اب دیگر حکمران ہوش کے ناخن لیں کہیں ان کے بھیڑ کی باری نہ آئے۔
رسولِ اکرم ﷺ کا میلاد «نور و رحمت کا میلاد» اور «انسانیت پر اللہ تعالیٰ…
صوبے اور ملک میں انتہاپسندی سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا؛…
سنی بلوچ علما کے خلاف بڑھتے ہوئے سکیورٹی دباؤ اور تعاقب کے درمیان گزشتہ دنوں…
سیستان و بلوچستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے اشتعال انگیز بیانات پر علما، قبائل اور…
زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال…
غزہ میں درجنوں فلسطینی صحافیوں نے پیر کے روز الجزیرہ چینل سے وابستہ اپنے 6…