’’اخبار جہان اسلام‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صوبہ خراسان کے اہم شہر تایباد کے عوام نے حساس ادارے کے غیر قانونی حکم کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے ۲۱ جنوری کو اس شہر کی جامع مسجد میں کافی تعداد میں جمع ہوگئے۔ احتجاج کرنے والوں کا نعرہ تھا ’’منافق مردہ باد‘‘ اور ’’ یا موت یا فاضلی‘‘، مولانا فاضلی کو چند سال قبل تایباد کے سنی عوام اور عمائدین نے اپنا خطیب اور مذہبی پیشوا مقرر کیا ہے۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس حکام نے جامع مسجد احناف کے اندر خفیہ کیمرے نصب کر رکھے تھے اور دو اہلکار مسجد کے حجرے سے مانیٹرنگ میں مصروف تھے۔ مشتعل نمازیوں نے قیمتی کیمروں کو اکھاڑ کر توڑدیا اور خفیہ ادارے کے اہلکاروں کی پٹائی کرکے انہیں زد وکوب کا نشانہ بنایا۔
مشتعل افراد نے مسجد سے باہر موجود اہلکاروں پر بھی حملہ کیا جہاں انٹیلی جنس ادارے کی ایک گاڑی کو جلادی گئی۔
رپورٹ کیمطابق سیکورٹی حکام بالاخر پسپائی پر مجبور ہوئے اور حالات پر قابو پانے کیلیے معزول خطیب مولانا محمدفاضلی سے درخواست کی کہ جمعہ کی نماز پڑھائیں، جس کے بعد لوگوں کے اشتعال میں کمی آگئی۔
کہا جاتا ہے نماز جمعہ کے بعد جب حالات میں بہتری آئی سیکورٹی حکام نے شہر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جن کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…