مسلمانوں کا شدید ردعمل
قبطی پادری کے ان توہین آمیز ریمارکس پر مسلم اور عیسائی لیڈروں۔۔۔۔۔۔ دونوں نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیداہوسکتی ہے۔اس پر بیشوئی نے بدھ کو ایک لیکچر کے دوران کہا تھا کہ ان کے ریمارکس کے حوالے سے ایک غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے۔
مصری روزنامے المصری الیوم میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق پادری بیشوئی نے قاہرہ کے جنوب میں واقع فایوم کے مقام پرایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”میرایہ سوال کہ قرآن مجید کی بعض آیات پیغمبراسلام کی وفات کے بعدشامل کی گئی تھیں،ایک تنقید یا الزام نہیں ہے بلکہ یہ بعض آیات کے حوالے سے ایک سوال ہے جن کے بارے میں میراعقیدہ ہے کہ وہ عیسائی عقیدے کے منافی ہیں”۔
بیشوئی کا کہنا تھا کہ ”میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ بیان اسلام پر حملہ کیسے ہوسکتا ہے”۔لیکن اس پادری نے ان آیات کا کوئی حوالہ نہِیں دیا جو ان کے خیال میں عیسائی عقیدے کے منافی ہیں اور جنہیں بعدمیں قرآن میں شامل کیا گیا تھا۔البتہ پادری کا اصرارہے کہ ان کے ریمارکس کو سیاق وسباق سے ہٹ کرلیا گیا ہے۔
مگراپنی ہرزہ سرائی کی الٹی منطق پیش کرنے والے پادری نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا کہ اس سے بڑااسلام پر اور کیاحملہ ہوسکتا ہے ہے کہ مسلمانوں کی کتاب ہدایت پرانگلی اٹھائی جارہی ہے اور اسے وہ تنقید بھی نہیں سمجھتے۔
مصر کی مذہبی اوقاف کی وزارت کے نائب وزیرسالم عبدالجلیل نے بھی پادری کے بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔حزب اختلاف کے اخبار الوفد میں شائع ہونے والے بیان کے مطابق نائب وزیرنے کہا کہ ”مسلمانوں کا عقیدہ ایک سرخ لکیرہے اوراس پرکسی بھی طرح اورکسی بھی انداز میں کوئی غیرمسلم بحث نہیں کرسکتا۔بالکل اسی طرح جس طرح ہم غیر مسلموں کے عقیدے کے بارے میں کوئی بحث نہیں کرتے”۔
مصری آئین کے تحت آزادی اظہارکی ضمانت دی گئی ہے لیکن مذہبی معاملات کے حوالے سے بہت زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کیونکہ مصر میں متعدد مرتبہ مسلمانوں اورعیسائیوں کے درمیان مذہبی کشیدگی کے نتیجے میں پُرتشدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
اس وقت تین مسلمانوں کے خلاف مصر کے جنوبی شہر نجاہ حمادی میں چھے قبطی عیسائیوں کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔قبطی عیسائی مصر کی کل آٹھ کروڑ آبادی کا چھے سے دس فی صد ہیں اور وہ حکام کی جانب سےمنظم طریقے سے خود کودیوارسے لگانے کی جائزوناجائزشکایات کرتے رہتے ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…