اسرائیلی فوج فلسطینی سرحد پر رہے گی
درایں اثناء اسرائیلی لیڈروں نے کہا ہے کہ صہیونی فوج مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کی مشرقی سرحد پر موجود رہےگی۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل گابی اشکنزئی نے منگل کے روز ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ فوج اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی محاذآرائی کی صورت میں بالکل تیار ہے۔انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے براہ راست مذاکرات جاری ہیں۔
اسرائیل ان مذاکرات کا کوئی حتمی نتیجہ نکلنے سے قبل ہی مختلف شرائط عاید کررہا ہے اور وہ یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کی مدت میں توسیع کرنے کو بھی تیارنہیں جبکہ فلسطینی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگراسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ مذاکرات کا بائیکاٹ کردیں گے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ مستقبل میں طے پانے والے کسی بھی معاہدے میں صہیونی ریاست کی سکیورٹی ان کے نزدیک اہمیت کی حامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اردن کی سرحد کے ساتھ اپنی فوجی موجودگی کو برقراررکھنا چاہیے تاکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کو امن معاہدے کے بعد مغربی کنارے میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ سے روکا جاسکے۔
نیتن یاہو نے سوموار کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سرحدوں پر صہیونی فوج تعینات کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن فلسطینیوں نے ان کی اس تجویز کو یکسرمسترد کردیا ہے اور کہا ہے اس سے ان کی مجوزہ ریاست کی خودمختاری ہی معرض خطر میں پڑجائے گی۔انہوں نے تجویز پیش کی ہے کہ اس کے بجائے علاقے میں بین الاقوامی فوج تعینات کی جائے۔
لیکن صہیونی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوجی اس صورت حال میں کام نہیں کرسکیں گے،اس لیے صرف صہیونی فوج ہی اسرائیلی ریاست کو سکیورٹی مہیا کرسکتی ہے۔اس کے ردعمل میں فلسطینی ترجمان حسام زملوط نے ایک بیان میں کہا کہ ”ایسا کبھی نہیں ہوگا اور کسی ایک اسرائیلی فوجی کو بھی مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست میں تعینات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی معاملات طے پاجاتے ہیں تو پھر بین الاقوامی فورس صورت حال کی مانیٹرنگ کرسکے گی اور سکیورٹی قائم کر سکے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…